۵۲۵۰ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ فَہْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ یَقُوْلُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا رَحَلَ اِلَی مِصْرٍ ، فَانْصَرَفَ مِنْہَا بِکِتَابِ التَّأْوِیْلِ لِمُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ ، مَا رَأَیْتُ رِحْلَتہ ذَہَبَتْ بَاطِلَۃً .فَوَجَدْنَا مَا أُضِیْفَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالتَّحِیَّۃَ فِیْ آیَۃِ الْأَنْفَالِ ، قَدْ کَانَ التَّمْلِیکُ ، لَا عَلٰی مَا سِوَاہُ .فَقَدْ کَانَ فِیْ ہٰذَا حُجَّۃٌ قَاطِعَۃٌ ، تُغْنِیْنَا عَنْ الِاحْتِجَاجِ بِمَا سِوَاہَا ، عَلٰی أَہْلِ ہٰذَا الْقَوْلِ .وَلٰـکِنَّا نُرِیْدُ فِی الِاحْتِجَاجِ عَلَیْہِمْ فَنَقُوْلُ : قَدْ وَجَدْنَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَضَافَ اِلٰی رَسُوْلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا مِنَ الْفَیْئِ فِیْ غَیْرِ الْآیَتَیْنِ اللَّتَیْنِ قَدَّمْنَا ذِکْرَہُمَا فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ ، فَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی التَّمْلِیکِ مِنْہُ اِیَّاہٗ، مَا أَضَافَہُ اِلَیْہِ مِنْ ذٰلِکَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَا أَفَائَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ مِنْہُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَلَا رِکَابٍ .
٥٢٥٠: علی بن حسین بن عبدالرحمن بن فہم کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل (رح) کو فرماتے سنا کہ اگر کوئی مصر کا سفر کرے اور وہاں سے معاویہ بن صالح کی کتاب التاویل لے آئے تو اس کا سفر بےکار نہیں گیا۔ پس ہمارے ہاں آیت انفال میں جو کچھ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ تملیک کو ظاہر کرنے کے لیے ہے اور کسی مقصد کے لیے نہیں۔ اس میں خود ایسی قطعی دلیل ہے جو کہ کسی اور روایت کے ان قول والوں کے خلاف دلیل بنانے سے ہمیں بےنیاز کرتی ہے مگر اتمام حجت کے طور پر ہم مزید دلیل پیش کئے دیتے ہیں۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات کے علاوہ بھی فئی کی نسبت اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کی ہے۔ جو اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہیں کہ وہ اضافت تملیک کے لیے ہے جیسا کہ سورة حشر کی یہ آیت : وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب (الحشر : ٦) روایت ملاحظہ ہو۔