hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5275

.

الطحاوي

5275
Al Tahawi
۵۲۷۴ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ نُصَیْرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ فَرُّوْخَ ، عَنْ حَبِیْبِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : أَتَیْ رَجُلٌ عِکْرَمَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ اللّٰہِ، قَوْلُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی قَالَ : أَسَبَائِیٌّ أَنْتَ ؟ قَالَ : لَسْتُ بِسَبَائِی ، وَلٰـکِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أَعْلَمَ .قَالَ : اِنْ کُنْتُ تُرِیْدُ أَنْ تَعْلَمَ ، فَاِنَّہٗ لَمْ یَکُنْ حَیٌّ مِنْ أَحْیَائِ قُرَیْشٍ اِلَّا وَقَدْ عَرِقَ فِیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ کَانَتْ قُرَیْشٌ یَصِلُوْنَ أَرْحَامَہُمْ مِنْ قِبَلِہِ فَمَا عَدَا اِذَا جَائَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَعَاہُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ ، فَقَطَعُوْھُ وَمَنَعُوْھُ ، وَحَرَمُوْھُ ، فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی أَنْ تَصِلُوْنِیْ لِمَا کُنْتُمْ تَصِلُوْنَ بِہٖ قَرَابَتَکُمْ قَبْلِی .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ مُجَاہِدٍ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا مَا یَدُلُّ عَلَی ہٰذَا الْمَعْنَی .
٥٢٧٤: عمر بن فروخ نے حبیب بن زبیر سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عکرمہ کی خدمت میں آیا اور کہا اے ابو عبداللہ ! اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا معنی ہے قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربٰی انھوں نے فرمایا کیا تو سبائی گروہ سے تعلق رکھتا ہے میں نے کہا میں سبائی تو نہیں لیکن میں تفسیر معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے فرمایا اگر تفسیر جاننا چاہتے ہو تو (سنو) قبائل قریش میں کوئی خاندان ایسا نہ تھا کہ جس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رشتہ داری نہ ہو اور قریش پہلے صلہ رحمی کرتے تھے اور کوئی حد بڑھنے والا نہ تھا جب آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اسلام کی طرف بلایا تو انھوں نے قطع رحمی کی آپ کے ساتھ میل و ملاپ کو روکا اور محروم کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربٰی “ اب بھی تم مجھ سے اسی طرح صلہ رحمی کرو جیسا کہ اس سے پہلے صلہ رحمی کرتے تھے۔
مجاہد (رح) کے قول سے تائید۔ حضرت مجاہد کا قول بھی اسی معنی کی تائید کرتا ہے۔