۵۲۸۴ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِیْ مَرْیَمَ ، عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ السَّعْدِیِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مَا تَحْفَظُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَذْکُرُ أَنِّیْ أَخَذْتُ تَمْرَۃً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ ، فَجَعَلْتُہَا فِیْ فِی ، فَأَخْرَجَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَاہَا فِی التَّمْرِ .فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَا کَانَ عَلَیْکَ فِیْ ہٰذِہِ التَّمْرَۃِ لِہَذَا الصَّبِیِّ .فَقَالَ : اِنَّا - آلَ مُحَمَّدٍ - لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ .
٥٢٨٤: ابو لجوزاء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی (رض) سے دریافت کیا کہ تمہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا بات یاد ہے ؟ کہنے لگے مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے صدقہ کی کھجوروں سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو میرے منہ سے نکال کر صدقہ کی کھجوروں میں واپس ڈال دیا ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس بچے کے اس ایک کھجور کھانے سے آپ پر کیا الزام تھا تو آپ نے فرمایا : ہم آلِ محمد کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
تخریج : مسلم فی الزکوۃ ١٦١‘ ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٢٩‘ دارمی فی الصلاۃ باب ٢١٤‘ مسند احمد ١؍٢٠٠۔