۵۳۰۰ : سُلَیْمَانَ بْنِ یَحْیَی قَدْ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ ، عَنْ بُدَیْلِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بُلْقِیْنَ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ بِوَادِی الْقُرَی ، فَقُلْتُ :یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، لِمَنِ الْمَغْنَمُ ؟ فَقَالَ لِلّٰہِ سَہْمٌ ، وَلِہٰؤُلَائِ أَرْبَعَۃُ أَسْہُمٍ .قُلْتُ :فَہَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِشَیْئٍ مِنَ الْمَغْنَمِ مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالَ لَا ، حَتَّی السَّہْمُ یَأْخُذُہُ أَحَدُکُمْ مِنْ جَنَّتِہِ فَلَیْسَ بِأَحَقَّ بِہٖ مِنْ أَخِیْہِ .
٥٣٠٠: بدیل بن میسرہ نے عبداللہ بن شقیق سے انھوں نے بلقین کے ایک آدمی سے روایت کی کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا آپ اس وقت وادی قریٰ میں تھے میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مال غنیمت کس کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے ان لوگوں (غازیوں ٩ کے لیے چار حصے میں نے پوچھا کیا کوئی شخص دوسرے کی بنسبت غنیمت کا زیادہ حقدار ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ تم میں سے جو حصہ لیتا ہے تو وہ اپنے بھائی کی بنسبت اس کا زیادہ حق دار نہیں ہے۔