۵۳۰۴ : مَا حَدَّثَنَا الرَّبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسٰی ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ ھِلَالٍ الرَّاسِبِیُّ ، عَنْ أَبِیْ حَمْزَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَیْسِ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا : اِنَّ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ مُضَرَ ، وَاِنَّا لَا نَسْتَطِیْعُ أَنْ نَأْتِیَک اِلَّا فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُ بِہٖ ، وَنُحَدِّثُ بِہٖ مَنْ بَعْدَنَا .قَالَ آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْہَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ ، شَہَادَۃِ أَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہٗ، وَأَنْ تُقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ ، وَتُؤْتُوْا الزَّکَاۃَ ، وَتُعْطُوْا سَہْمَ اللّٰہِ مِنَ الْغَنَائِمِ وَالصُّفّٰی ، وَأَنْہَاکُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّائِ ، وَالنَّقِیْرِ ، وَالْمُزَفَّتِ .
٥٣٠٤: ابو حمزہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ عبدالقیس کا وفد جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگے ہمارے اور آپ کے مابین یہ مضر کا قبیلہ آباد ہے اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ تک پہنچ نہیں سکتے پس آپ ہمیں ایسی باتوں کا حکم فرمائیں جن کو ہم خود اختیار کریں اور پچھلے لوگوں کو بیان کرسکیں۔ آپ نے فرمایا تمہیں چاروں باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے روکتا ہوں۔ ! اقرار شہادتین۔ " نماز کو قائم کرو۔ 3 زکوۃ ادا کرو۔$غنائم سے اللہ تعالیٰ کا اور منتخب حصہ نکالو اور جن باتوں سے منع کرتا ہوں وہ یہ ہیں شراب کے تمام اقسام کے برتنوں سے منع کرتا ہوں۔ ! سبز گھڑے۔ " کدو۔ 3 لکڑی کھود کر بنائے ہوئے۔ $تارکول لگے ہوئے برتن سے۔ (جب برتنوں کا استعمال ممنوع ہوا تو شراب تو پہلے ہی حرام تھی۔ )