۵۳۵۹ : حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی الْمُزَنِیّ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوْبَ السِّخْتِیَانِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ، وَرَجُلٍ آخَرَ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِیْعُوْا الذَّہَبَ بِالذَّہَبِ ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ ، وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ ، وَلَا الشَّعِیْرَ بِالشَّعِیْرِ ، وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ ، وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ اِلَّا سَوَائً بِسَوَائٍ ، عَیْنًا بِعَیْنٍ ، وَلٰـکِنْ بِیْعُوْا الذَّہَبَ بِالْوَرِقِ ، وَالْوَرِقَ بِالذَّہَبِ ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِیْرِ ، وَالشَّعِیْرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ ، وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ یَدًا بِیَدٍ ، کَیْفَ شِئْتُمْ .قَالَ : وَنَقَصَ أَحَدُہُمَا ، التَّمْرَ بِالْمِلْحِ ، وَزَادَ الْآخَرُ مَنْ زَادَ أَو ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبٰی .
٥٣٥٩: مسلم بن یسار اور ایک دوسرے شخص نے حضرت عبادہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ سونا سونے کے بدلے ‘ اور چاندی۔ چاندی کے بدلے ‘ گندم گندم کے بدلے۔ جو جو کے بدلے ‘ کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر فروخت کرو۔ مگر سونے کو چاندی اور چاندی کو سونے کے بدلے اسی طرح گندم کو جو کے بدلے اور جو کو گندم کے بدلے اور کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے بدلے نقداً جس طرح چاہو فروخت کرو۔ کھجور و نمک میں سے ایک چیز کم ہو اور دوسری زیادہ ہو تو یہ اضافہ درست ہے (اور جب جنس ایک ہو) تو جس نے زیادہ لیا اس نے سود کا کام کیا۔
تخریج : مسلم فی المساقات ٨٠‘ ناسئی فی البیوع باب ٥٠‘ مسند احمد ٥؍٣٢٠۔