hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5380

.

الطحاوي

5380
Al Tahawi
۵۳۷۹ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلَی ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَلَقَّوْا الْجَلَبَ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَاحْتَجَّ قَوْمٌ بِہٰذِہِ الْآثَارِ ، فَقَالُوْا : مَنْ تَلَقَّی شَیْئًا قَبْلَ دُخُوْلِہِ السُّوْقَ ، ثُمَّ اشْتَرَاہٗ، فَشِرَاؤُہُ بَاطِلٌ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : کُلُّ مَدِیْنَۃٍ یَضُرُّ التَّلَقِّی بِأَہْلِہَا ، فَالتَّلَقِّی فِیْہَا مَکْرُوْہٌ ، وَالشِّرَائُ جَائِزٌ ، وَکُلُّ مَدِیْنَۃٍ لَا یَضُرُّ التَّلَقِّی بِأَہْلِہَا ، فَلَا بَأْسَ بِالتَّلَقِّی فِیْہَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٥٣٧٩: ابن ابی لیلیٰ نے ایک صحابی (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سو تاجروں کو آگے جا کر مت ملو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : بعض نے ان آثار کو سامنے رکھ کر یہ کہا کہ جس نے آگے جا کر بازار میں آنے سے پہلے جس سامان کو خرید لیا اس کی بیع باطل ہے۔ دوسروں نے کہا جس شہر والوں کو باہر باہر سامان خرید لینے سے نقصان پہنچتا ہو وہ آگے جا کر سودا کرلینا مکروہ ہے مگر خرید لیا تو بیع جائز ہے اور اگر کسی شہر والوں کو اس سے نقصان نہیں پہنچتا تو اس میں کراہت بھی نہیں۔ اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : نسائی فی البیوع باب ١٨‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ١٦‘ دارمی فی البیوع باب ٣٢‘ مسند احمد ٢؍٤١٠‘ ٤٨٨۔ لغات : الجلب۔ اس سے مجلوب بھیڑ بکریاں وغیرہ سامان تجارت مراد ہے۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : بعض نے ان آثار کو سامنے رکھ کر یہ کہا کہ جس نے آگے جا کر بازار میں آنے سے پہلے جس سامان خرید لیا اس کی بیع باطل ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : جس شہر والوں کو باہر باہر سامان خرید لینے سے نقصان پہنچتا ہو اس کا آگے جا کر سودا کرلینا مکروہ ہے مگر خرید لیا تو بیع جائز ہے اور اگر کسی شہر والوں کو اس سے نقصان نہیں پہنچتا تو اس میں کراہت بھی نہیں۔ اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔