۵۳۸۱ : وَحَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ ، قَالَ : ثَنَا حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ ، قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُمْ کَانُوْا یَشْتَرُوْنَ الطَّعَامَ مِنِ الرُّکْبَانِ ، عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَیَبْعَثُ عَلَیْہِمْ مَنْ یَمْنَعُہُمْ أَنْ یَبِیْعُوْھُ حَیْثُ اشْتَرَوْہٗ، حَتَّی یُبَلِّغُوْھُ اِلَیْ حَیْثُ یَبِیْعُوْنَ الطَّعَامَ .فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ اِبَاحَۃُ التَّلَقِّی ، وَفِی الْأَوَّلِ ، النَّہْیُ عَنْہُ، فَأَوْلَی بِنَا أَنْ نَجْعَلَ ذٰلِکَ عَلٰی غَیْرِ التَّضَادِّ وَالْخِلَافِ .فَیَکُوْنُ مَا نُہِیَ عَنْہُ مِنَ التَّلَقِّی ، لَمَا فِیْ ذٰلِکَ مِنْ الضَّرَرِ عَلٰی غَیْرِ الْمُتَلَقِّیْنَ الْمُقِیْمِیْنَ فِی الْأَسْوَاقِ .وَیَکُوْنُ مَا أُبِیْحَ مِنَ التَّلَقِّی ، ہُوَ الَّذِی لَا ضَرَرَ فِیْہِ عَلَی الْمُقِیْمِیْنَ فِی الْأَسْوَاقِ .فَہٰذَا وَجْہُ ہٰذِہِ الْآثَارِ - عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ اِجَازَۃِ الشِّرَائِ مَعَ التَّلَقِّی الْمَنْہِیِّ عَنْہُ،
٥٣٨١: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے ہم زمانہ نبوت میں قافلوں سے غلہ خرید کرلیتے تھے آپ ان پر ایک آدمی مقرر فرما دیتے جو خریداری کے مقامات سے منتقل کرنے کے بغیر فروخت سے روک دیتا یہاں تک کہ خریدار اس مقام پر نہ پہنچاتے جہاں انھوں نے غلہ فروخت کرنا ہوتا۔ (منڈی میں) مندرجہ بالا آثار تلقی یا بیع کو درست قرار دے رہی ہیں جبکہ اس سے پہلی روایات ممانعت کی طرف مشیر ہیں پس ہمارے لیے بہتر یہ ہے کہ ہ ان کے تضاد و اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ پس جس سودے کو آگے جا کر کرنے کی ممانعت ہے جس سے بازار والوں اور آگے جا کر سودا نہ کرنے والوں کو نقصان (معتدبہ) پہنچے اور جو مباح کی گئی ہے اس سے مراد وہ ہے جس سے بازار میں ٹھہرنے والوں پر کوئی معتدبہ ضرر لازم نہ آتا ہو۔ ہم نے ان آثار کی باہمی تطبیق کردی۔ واللہ اعلم۔ پہلے ملاقات کر کے خریداری پر ممانعت کے باوجود بیع کے جواز کی دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٧٢‘ مسلم فی البیوع ٣٤‘ نسائی فی البیوع باب ٥٧‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٣٨‘ مسند احمد ٢‘ ١٣٥؍١٤٢۔
مندرجہ بالا آثار تلقی بالبیع کو درست قرار دے رہی ہیں جبکہ اس سے پہلی روایات ممانعت کی طرف مشیر ہیں پس ہمارے لیے بہتر یہ ہے کہ ہ ان کے تضاد و اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
پس سودے کو آگے جا کر کرنے کی ممانعت ہے جس سے بازار والوں اور آگے جا کر سودا نہ کرنے والوں کو (معتدبہٖ ) نقصان پہنچے اور جو مباح کی گئی ہے اس سے مراد وہ ہے جس سے بازار میں ٹھہرنے والوں پر کوئی معتدبہ ضرر لازم نہ آتا ہو۔ ہم نے ان آثار کی باہمی تطبیق کردی۔ واللہ اعلم۔
پہلے ملاقات کر کے خریداری پر ممانعت کے باوجود بیع کے جواز کی دلیل یہ روایات ہیں۔