۵۳۸۴ : حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَّانِ ، قَالَا : ثَنَا ہِلَالُ بْنُ یَحْیَی بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ أَبِیْ مَعْرُوْفٍ الْمَکِّیِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّیْثِیِّ قَالَ : اشْتَرَی طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَالًا ، فَقِیْلَ لِعُثْمَانَ : اِنَّک قَدْ غُبِنْتَ وَکَانَ الْمَالُ بِالْکُوْفَۃِ وَہُوَ مَالُ آلِ طَلْحَۃَ الْآنَ بِہَا .فَقَالَ عُثْمَانُ : لِی الْخِیَارُ ، لِأَنِّیْ بِعْتُ مَا لَمْ أَرَ .فَقَالَ طَلْحَۃُ : اِلَیَّ الْخِیَارُ ، لِأَنِّیْ اشْتَرَیْتُ مَا لَمْ أَرَ .فَحَکَّمَا بَیْنَہُمَا جُبَیْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، فَقَضَی أَنَّ الْخِیَارَ لِطَلْحَۃَ ، وَلَا خِیَارَ لِعُثْمَانَ .وَالْآثَارُ فِیْ ذٰلِکَ قَدْ جَائَ تْ مُتَوَاتِرَۃً ، وَاِنْ کَانَ أَکْثَرُہَا مُنْقَطِعًا ، فَاِنَّہٗ مُنْقَطِعٌ ، لَمْ یُضَادَّہٗ مُتَّصِلٌ .وَفِیْ ہٰذَا أَیْضًا حُجَّۃٌ أُخْرَی ، وَہِیَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، جَعَلَ فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ لِلْمُتَلَقَّی الْبَائِعِ الْخِیَارَ ، فِیْمَا بَاعَ اِذَا دَخَلَ الْأَسْوَاقَ ، وَعَلِمَ بِالْأَسْعَارِ .فَأَرَدْنَا أَنَّ نَنْظُرَ ، ہَلْ ضَادَّ ذٰلِکَ شَیْء ٌ أَمْ لَا ؟ فَاعْتَبَرْنَا ذٰلِکَ ،
٥٣٨٤: علقمہ بن وقاص لیثی بیان کرتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ (رض) نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے کوئی چیز خریدی۔ حضرت عثمان (رض) کو کسی نے کہا تمہیں سودے میں نقصان ہے۔ اس وقت مال کوفہ میں تھا۔ وہ مال آل طلحہ کا تھا حضرت عثمان (رض) نے فرمایا مجھے اختیار ہے کیونکہ میں وہ چیز بیچ رہا ہوں جس کو میں نے نہیں دیکھا۔ اس سلسلہ میں متواتر آثار وارد ہیں اگرچہ اکثر منقطع ہیں مگر اس کے متضاد کوئی متصل روایت موجود نہیں (پس وہ آثار قیاس سے اعلیٰ و اولیٰ ہیں) اس میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) والی روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بائع کو اختیار دیا ہے جس سے باہر جا کر ملاقات کی گئی ہے کہ جب وہ منڈی میں آئے اور اسے گرانی کا علم ہوجائے (تو وہ سودا توڑ سکتا ہے) اب فیصلہ پر پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کسے بالمقابل کوئی واضح روایت مل جائے۔ روایت انس (رض) ملاحظہ ہو۔
حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا مجھے بھی اختیار ہے کیونکہ میں نے ایسی چیز خریدی ہے جس کو میں نے نہیں دیکھا۔
دونوں نے حضرت جبیر بن مطعم کو فیصل بنایا۔ تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ حضرت طلحہ (رض) کو اختیار ہے مگر حضرت عثمان (رض) کو اختیار نہیں۔
حاصل اثر : اس سلسلہ میں متواتر آثار وارد ہیں اگرچہ اکثر منقطع ہیں مگر اس کے متضاد کوئی متصل روایت موجود نہیں (پس وہ آثار قیاس سے اعلیٰ و اولیٰ ہیں)
روایت میں دوسری دلیل : اس میں ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) والی روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بائع کو اختیار دیا ہے جس سے باہر جا کر ملاقات کی گئی ہے کہ جب وہ منڈی میں آئے اور اسے گرانی کا علم ہوجائے (تو وہ سودا توڑ سکتا ہے) اب فیصلہ پر پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بالمقابل کوئی واضح روایت مل جائے۔ روایت انس (رض) ملاحظہ ہو۔