۵۴۰۷: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْخَلِیْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ حَتّٰی یَتَفَرَّقَا أَوْ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا ، فَاِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا ، بُوْرِکَ لَہُمَا فِیْ بَیْعِہِمَا ، وَاِنْ کَذَبَا وَکَتَمَا ، مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِہِمَا .
٥٤٠٧: عبداللہ بن حارث نے حکیم بن حزام (رض) سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا خریدار اور فروخت کنندہ کو اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں انھوں نے حتی یتفرقا یا مالم یتفرقا فرمایا۔ اگر وہ دونوں سچ بولنے اور بات واضح کرنے والے ہوں گے تو سودے میں برکت ڈال دی جائے گی اور اگر انھوں نے جھوٹ اور کتمان عیب سے کام لیا تو سودے کی برکت ختم کردی جائے گی۔
لغات : صدقا۔ یہاں شئی کی درست تعریف مراد ہے۔ محقت مٹائی جاتی ہے۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ١٩؍٢٢‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٥١‘ ترمذی فی البیوع باب ٢٦‘ نسائی فی البیوع باب ٤؍٨‘ دارمی فی البیوع باب ١٥‘ مسند احمد ٣‘ ٤٠٢؍٤٣٤۔