۵۴۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ زَائِدَۃَ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ أَحْیَانِہٖ) .فَفِیْ ھٰذَا اِبَاحَۃُ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فِیْ حَالَۃِ الْجَنَابَۃِ، وَلَیْسَ فِیْہِ، وَلَا فِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ظَبْیَۃَ مِنْ قِرَائَ ۃِ الْقُرْآنِ شَیْئٌ .وَفِیْ حَدِیْثِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بَیَانُ فَرْقِ مَا بَیْنَ قِرَائَ ۃِ الْقُرْآنِ، وَذِکْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی، فِیْ حَالِ الْجَنَابَۃِ .وَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا فِی النَّہْیِ عَنْ قِرَائَ ۃِ الْقُرْآنِ فِیْ حَالِ الْجَنَابَۃِ،
٥٤٥: خالد بن سلمہ نے عروہ سے اور عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے تھے۔ اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ جنابت کی حالت میں ذکر اللہ مباح ہے ‘ اس روایت اور ابوظبیہ کی روایت میں قرآن مجید کی قراءت کا تذکرہ نہیں اور حضرت علی (رض) کی روایت میں عام ذکر اللہ اور قراءت قرآن کا جنابت کی حالت میں کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا حالانکہ جنابت کی حالت میں قراءت قرآن کی ممانعت روایات سے ثابت ہے ‘ ملاحظہ ہو۔
تخریج : بخاری کتاب الحیض باب ٧‘ والاذان باب ٩‘ مسلم فی الحیض نمبر ١١٧‘ ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٩‘ نمبر ١٨‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ١١ مسند احمد ٦؍٧٠‘ ١٥٣‘ بیہقی ١؍٩٠‘
حاصل روایات : اس روایت اور گزشتہ روایت ابو طبیہ میں قرآن مجید کی قراۃ کا تذکرہ بحالت جنابت مذکور نہیں ہے بلکہ ایسی روایات موجود ہیں جن میں قرآن مجید کی قراءت سے واضح ممانعت موجود ہے۔