۵۴۷۶: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا الْقَعْنَبِیُّ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ ، عَنْ بَشِیْرِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَہْلِ دَارِہِمْ ، مِنْہُمْ سَہْلُ بْنُ أَبِیْ حَثْمَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، وَقَالَ ذٰلِکَ الرِّبَا ذٰلِکَ الْمُزَابَنَۃُ اِلَّا أَنَّہٗ رَخَّصَ فِیْ بَیْعِ الْعَرِیَّۃِ ، النَّخْلَۃِ وَالنَّخْلَتَیْنِ یَأْخُذُہَا أَہْلُ الْبَیْتِ بِخَرْصِہَا تَمْرًا ، یَأْکُلُوْنَہَا رُطَبًا .
٥٤٧٦: بشیر بن یسار نے اپنے علاقہ کے بعض اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا ان میں سے سہل بن ابی حثمہ ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خشک کھجور کی بیع پھل کے بدلے کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا یہ سود ہے یہ مزابنہ ہے البتہ عرایا کی اجازت دی ہے (وہ یہ ہے کہ) باغ والے ایک یا دو کھجوروں کا پھل غرباء کو ہدیہ کریں پھر ان کا پھل اندازہ کر کے ان سے خشک کھجور کے بدلے لے لیں اور تازہ کھجور خود استعمال میں لائیں۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٨٣‘ مسلم فی البیوع ٦١؍٦٧‘ ابو داؤد فی البیوع باب ١٩‘ نسائی فی البیوع باب ٣٥‘ مسند احمد ٤؍٢‘ ٥‘ ١٩٠۔