hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 548

.

الطحاوي

548
Al Tahawi
۵۴۸ : فَإِذَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَبُوْ کُرَیْبٍ قَالَ : ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ، عَنْ شَیْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَلْقَمَۃَ بْنِ الْفَغْوَائِ، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا أَہْرَاقَ الْمَائَ إِنَّمَا نُکَلِّمُہٗ فَلَا یُکَلِّمُنَا، وَنُسَلِّمُ عَلَیْہِ فَلَا یَرُدُّ عَلَیْنَا، حَتّٰی نَزَلَتْ (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاۃِ)۔) .فَأَخْبَرَ عَلْقَمَۃُ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّ حُکْمَ الْجُنُبِ کَانَ عِنْدَہٗ، قَبْلَ نُزُوْلِ ھٰذِہِ الْآیَۃِ، أَنْ لَا یَتَکَلَّمَ وَأَنْ لَا یَرُدَّ السَّلَامَ، حَتَّی نَسَخَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآیَۃِ، فَأَوْجَبَ بِہَا الطَّہَارَۃَ عَلٰی مَنْ أَرَادَ الصَّلَاۃَ خَاصَّۃً .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ حَدِیْثَ أَبِی الْجَہْمِ، وَحَدِیْثَ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَالْمُہَاجِرِ، مَنْسُوْخَۃٌ کُلُّہَا، وَأَنَّ الْحُکْمَ الَّذِیْ فِیْ حَدِیْثِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مُتَأَخِّرٌ عَنِ الْحُکْمِ الَّذِیْ فِیْہَا .وَقَدْ دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا،
٥٤٨: عبداللہ بن علقمہ (رض) بن الفغواء نے اپنے والد سے نقل کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آپ اھراق الماء یعنی پیشاب سے فارغ ہوجاتے تو ہم آپ سے باتیں کرتے آپ ہماری باتوں کا جواب نہ دیتے ہم سلام کرتے تو آپ سلام کا جواب نہ دیتے یہاں تک کہ یہ آیت اتری : { یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاۃِ }(المائدہ) پس علقمہ نے اس روایت میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ خبر دی کہ اس آیت کے اترنے سے پہلے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں جنابت والے کا حکم یہ تھا کہ وہ نہ تو کلام کرے اور نہ سلام کا جواب دے یہاں تک کہ اس آیت نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ پس اس آیت کے ذریعہ اس شخص پر طہارت کو خاص طور پر لازم کیا گیا جو نماز کا ارادہ رکھتا ہو۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت ابوجہم ‘ ابن عمر ‘ حضرت علی ‘ ابن عباس اور مہاجر (رض) کی روایت حکم کے لحاظ سے متاخر ہے اور اس بات کی نشاندہی فرمائی ہے۔
تخریج : طبرانی معجم کبیر ١؍٦۔
حاصل روایات : اس روایت میں حضرت علقمہ نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات ثابت کردی کہ جنابت کا حکم اس آیت مائدہ کے نزول سے پہلے یہ تھا کہ نہ تو گفتگو کی جائے اور نہ سلام کا جواب دیا جائے۔
نمبر ١: اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے یہ حکم منسوخ کردیا اور طہارت کا حکم اس کے لیے لازم قرار دیا جو نماز ادا کرنا چاہتا ہو۔
نمبر ٢: اس سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ ابوالجہم ‘ ابن عمر ‘ ابن عباس اور مہاجر بن قنفذ (رض) والی تمام روایات منسوخ ہیں اور حضرت علی (رض) والی روایت میں جو حکم موجود ہے وہ ان روایات میں مذکورہ حکم سے مؤخر ہے اور اس کی مزید تائید مقصود ہو تو مندرجہ ذیل روایات ملاحظہ کریں۔