۵۴۸۵: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ زُرْعَۃَ وَہْبُ اللّٰہِ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَۃِ قَالَ : وَالْمُزَابَنَۃُ أَنْ یَشْتَرِیَ الرَّجُلُ أَوْ یَبِیْعَ حَائِطَہُ بِتَمْرٍ کَیْلًا ، أَوْ کَرْمَہُ بِزَبِیْبٍ کَیْلًا ، وَأَنْ یَبِیْعَ الزَّرْعَ کَیْلًا ، بِشَیْئٍ مِنِ الطَّعَامِ .
٥٤٨٥: نافع نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزابنہ سے منع فرمایا اور فرمایا مزابنہ یہ ہے کہ کوئی آدمی باغ خریدے یا فروخت کرے خشک کھجور کے بدلے کیل کر کے یا باغ کی بیلیں کشمش کے بدلے کیل کر کے فروخت کرے اور کھیتی میں پائے جانے والے دانوں کو خشک گندم کے بدلے کیل سے فروخت کرنا۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٧٥؍٨٢‘ مسلم فی البیوع ٧٢؍٧٦‘ نسائی فی البیوع باب ٣٣‘ مالک فی البیوع ٢٣‘ مسند احمد ٢؍٦٣۔