hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5495

.

الطحاوي

5495
Al Tahawi
۵۴۹۴: حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ أَبِی الْوَزِیْرِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حُمَیْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَتِیْقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَائِحَۃِ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ مَعْنٰی ہٰذِہِ الْجَوَائِحِ الَّتِیْ أَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِوَضْعِہَا ، ہِیَ الثِّمَارُ ، یَبْتَاعُہَا الرَّجُلُ فَیَقْبِضُہَا ، فَیُصِیْبُہَا فِیْ یَدِہِ جَائِحَۃٌ ، فَیَذْہَبُ بِثُلُثِہَا فَصَاعِدًا .قَالُوْا : فَذٰلِکَ یُبْطِلُ ثَمَنَہَا عَنِ الْمُشْتَرِی .قَالُوْا : وَمَا أَصَابَہَا ، فَأَذْہَبَ بِشَیْئٍ مِنْہَا دُوْنَ ثُلُثِہَا ، ذَہَبَ ذٰلِکَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِی ، وَلَمْ یَبْطُلْ عَنْہُ مِنْ ثَمَنِہِ شَیْء ٌ ، قَلِیْلٌ وَلَا کَثِیْرٌ .قَالُوْا : وَہٰذَا مِثْلُ الْحَدِیْثِ الْآخَرِ الْمَرْوِیِّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٥٤٩٤: سلیمان بن عتیق نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہلاک شدہ پھل کو نکال دینے کا حکم فرمایا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ اس جائحہ (ہلاکت) جس کے نقصان کو اصل سے نکالنے کا حکم ان روایات میں مذکور ہے اس سے مراد پھلوں کا نقصان ہے اس کی شرط یہ ہے کہ خریدنے کے بعد اس کو قبضہ میں لے لے اور اس کے پاس پھل اتنا تباہ ہو کہ پھل کا تیسرا حصہ یا اس سے زیادہ تباہ کر دے وہ کہتے ہیں کہ اس آفت کی وجہ سے مشتری سے اس کی قیمت باطل ہوجاتی ہے اور اگر وہ ہلاکت معمولی نقصان کر دے تو وہ خریدار کے مال کا نقصان سمجھا جائے گا اور اس کی قیمت میں سے کوئی چیز کم نہ کی جائے گی نہ قلیل نہ کثیر۔ یہ اس روایت کی طرح ہے جس کو جابر (رض) نے روایت کیا ہے۔
تخریج : مسلم فی المساقات ١٧‘ نسائی فی البیوع باب ٣٠۔