hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5497

.

الطحاوي

5497
Al Tahawi
۵۴۹۶: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالُوْا .قَدْ بَیَّنَ ہٰذَا الْحَدِیْثَ ، الْمَعْنَی الَّذِیْ ذَکَرْنَا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : مَا ذَہَبَ مِنْ ذٰلِکَ مِنْ شَیْئٍ ، قَلَّ أَوْ کَثُرَ ، بَعْدَ أَنْ یَقْبِضَہُ الْمُشْتَرِی ، ذَہَبَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِی .وَمَا ذَہَبَ فِیْ یَدِ الْبَائِعِ ، قَبْلَ أَنْ یَقْبِضَہُ الْمُشْتَرِی ، بَطَلَ ثَمَنُہٗ عَنِ الْمُشْتَرِی .وَقَالُوْا : مَا ہٰذِہِ الْآثَارُ الْمَرْوِیَّۃُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّتِیْ ذٰکَرْتُمُوْہَا ، فَمَقْبُوْلٌ صَحِیْحٌ عَلٰی مَا جَائَ .وَلَسْنَا نَدْفَعُ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا لِصِحَّۃِ مَخْرَجِہٖ، وَلٰـکِنَّا نُخَالِفُ التَّأْوِیْلَ الَّذِیْ تَأَوَّلَہَا عَلَیْہِ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی .وَنَقُوْلُ : اِنَّ مَعْنَی الْجَوَائِحِ الْمَذْکُوْرَۃِ فِیْہَا ، ہِیَ الْجَوَائِحُ الَّتِیْ یُصَابُ النَّاسُ بِہَا ، وَیَجْتَاحُہُمْ فِی الْأَرْضِیْنَ الْخَرَاجِیَّۃِ الَّتِی خَرَاجُہَا لِلْمُسْلِمِیْنَ ، فَیُوْضَعُ ذٰلِکَ الْخَرَاجُ عَنْہُمْ - وَاجِبٌ لَازِمٌ ، لِأَنَّ فِیْ ذٰلِکَ صَلَاحًا لِلْمُسْلِمِیْنَ ، وَتَقْوِیَۃً لَہُمْ فِیْ عِمَارَۃِ أَرَضِیہمْ فَأَمَّا فِی الْأَشْیَائِ الْمَبِیْعَاتِ ، فَلَا .فَہٰذَا تَأْوِیْلُ حَدِیْثِ جَابِرٍ ، الَّذِیْ فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ .وَأَمَّا حَدِیْثُ جَابِرٍ الثَّانِیْ، فَمَعْنَاہُ غَیْرُ ہٰذَا الْمَعْنَی ، وَذٰلِکَ أَنَّہٗ ذَکَرَ فِیْہِ الْبَیْعَ ، وَلَمْ یَذْکُرْ فِیْہِ الْقَبْضَ .فَذٰلِکَ - عِنْدَنَا - عَلَی الْبِیَاعَاتِ الَّتِیْ تُصَابُ فِیْ أَیْدِیْ بَائِعِیْہَا ، قَبْلَ قَبْضِ الْمُشْتَرِی لَہَا ، فَلَا یَحِلُّ لِلْبَاعَۃِ أَخْذُ أَثْمَانِہَا ، لِأَنَّہُمْ یَأْخُذُوْنَہَا بِغَیْرِ حَق .فَہٰذَا تَأْوِیْلُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عِنْدَہُمْ .فَأَمَّا مَا قَبَضَہُ الْمُشْتَرُوْنَ ، وَصَارَ فِیْ أَیْدِیْہِمْ ، فَذٰلِکَ کَسَائِرِ الْبِیَاعَاتِ ، الَّتِیْ یَقْبِضُہَا الْمُشْتَرُوْنَ لَہَا ، فَیَحْدُثُ بِہَا الْآفَاتُ فِیْ أَیْدِیْہِمْ .فَکَمَا کَانَ غَیْرُ الثِّمَارِ ، یَذْہَبُ مِنْ أَمْوَالِ الْمُشْتَرِیْنَ لَہَا ، لَا مِنْ أَمْوَالِ بَاعَتِہَا ، فَکَذٰلِکَ الثِّمَارُ .فَہٰذَا ہُوَ النَّظْرُ ، وَہُوَ أَوْلَی ، مَا حُمِلَ عَلَیْہِ ہٰذَا الْحَدِیْثُ .لِأَنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
٥٤٩٦: ابو عاصم نے ابن جریج سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اس روایت نے فریق اوّل کے مؤقف کو خوب واضح کردیا۔ دوسروں نے کہا قبضہ کے بعد قلیل و کثیر جو کچھ نقصان ہوگا وہ خریدار کا ہوگا اور مالک کے ہاتھ میں جب تک وہ چیز موجود ہے اس وقت ہونے والے نقصان کی قیمت مشتری کے ذمہ نہ ہوگی۔ ان آثار مرویہ میں جو کچھ آیا وہ بالکل درست ہے اسناد کی درستی کی وجہ سے کوئی بھی قابل رد نہیں۔ البتہ ان کی وہ تاویل جو آپ نے کی ہے اس کو درست قرار نہیں دیتے۔ درست تاویل ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت جابر (رض) کی روایت اوّل کی تاویل یہ ہے کہ اس سے مراد وہ آفات ہیں جو خراجی زمینوں میں پہنچیں اور لوگوں کو محتاج کردیں تو اس وقت خراج کا ان سے ہٹانا لازم ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کا فائدہ ہے اور اراضی کی آبادی میں یہ چیز معاون ہے فروخت شدہ اشیاء سے اس کا تعلق نہیں۔ اس روایت میں بیع کا ذکر ہے قبضے کا اس میں تذکرہ ہی نہیں۔ ہمارے ہاں اس سے مراد وہ بیوع ہیں جن میں مشتری کا قبضہ ابھی ثابت نہ ہو تو اس آفت شدہ چیز کی قیمت خریدار سے لینا جائز نہیں کیونکہ وہ بلا بدل ہے۔ یہ اس روایت کی تاویل ہے باقی وہ بیوع جن پر مشتری قبضہ کرے تو دیگر تمام بیوع کی طرح اس میں پیش آمدہ آفت کا تعلق مشتری سے ہوگا جیسا کہ پھلوں کے علاوہ اشیاء میں وہ خریداروں کا مال جاتا ہے۔ مالکوں کا اس سے تعلق نہیں ہونا پھلوں کا بھی یہی حکم ہے۔ نظر کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس حدیث کا اس پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔ کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔