hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 55

.

الطحاوي

55
Al Tahawi
۵۵ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ( اِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِی الْاِنَائِ فَاغْسِلُوْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ) .
٥٥ : حضرت ابوہریرہ (رض) جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کرتے ہیں جب برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھوؤ۔
خلاصۃ الزام : کتے کے جو ٹھے سے متعلق تین قول ائمہ سے منقول ہیں نمبر ١ نجس اور اس کے جو ٹھے برتن کو رگڑنا اور پھر سات مرتبہ دھونا واجب ہے۔ نمبر ٢ نجس ہے عام نجاسات کی طرح تین دفعہ دھونا کافی ہے۔ نمبر ٣ پاک ہے۔
قول اول : گوشت کی طرح جوٹھا بھی ناپاک ہے اس سے برتن کو صاف کرنے کے لیے سات مرتبہ دھونا واجب ہے جن میں پہلی یا آخری مرتبہ مٹی سے مانجھنا بھی لازم ہے یہ امام شافعی (رح) و احمد (رح) کا قول ہے۔
قول دوم : جوٹھا بھی گوشت کی طرح ناپاک ہے اور اس سے برتن عام نجاسات کی طرح تین مرتبہ دھونے سے پاک ہوجاتا ہے یہ ائمہ احناف کا قول ہے۔
قول سوم : جوٹھا پاک ہے اس سے دھونے کا حکم تعبدی ہے یہ امام مالک و اہل ظواہر کا قول ہے۔
قول اول والوں کے دلائل مندرجہ ذیل روایات ہیں :
تخریج : بخاری فی الوضوء باب ٣٣‘ مسلم فی الطھارۃ حدیث ٩٠؍٩٠‘ ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٣٧‘ ترمذی فی الطھارۃ باب ٦٨‘ نسائی فی الطھارۃ ١؍٥٦‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ٣١‘ دارمی فی الوضوء باب ٥٩‘ مسند احمد ٢ ٢٤٥؍٢٥٣‘ ٢٦٥؍٢٧١‘ ٣١٤؍٣٩٨‘ بیہقی فی السنن الکبرٰی ١؍٢٤٠‘ دارقطنی فی سننہ کتاب الطھارۃ ١؍٦٥۔