۵۵۱۸: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَیْمُوْنٍ قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَحْیَی ابْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ یَعْلَی بْنُ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ أَبَاہُ سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنِّیْ أَشْتَرٰی بُیُوْعًا فَمَا یَحِلُّ لِیْ مِنْہَا ؟ .قَالَ : اِذَا اشْتَرَیْتَ بَیْعًا ، فَلَا تَبِعْہُ حَتّٰی تَقْبِضَہٗ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَبِہٰذَا نَأْخُذُ ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .غَیْرَ أَنَّ أَبَا حَنِیْفَۃَ قَالَ : لَا بَأْسَ بِبَیْعِ الدُّوْرِ وَالْأَرْضِیْنَ ، قَبْلَ قَبْضِ مُشْتَرِیْہَا اِیَّاہَا ، لِأَنَّہَا لَا تُنْقَلُ وَلَا تُحَوَّلُ ، وَسَائِرُ الْبَیْعَاتِ لَیْسَتْ کَذٰلِکَ .وَالنَّظْرُ فِیْ ہٰذَا - عِنْدَنَا - أَنْ یَکُوْنَ الْعُرُوْض وَسَائِرُ الْأَشْیَائِ فِیْ ذٰلِکَ سَوَائً ، عَلٰی مَا قَدْ ذَکَرْنَا فِی الطَّعَامِ .
٥٥١٨: یعلیٰ بن حکیم نے حکیم بن حزام (رض) سے روایت کی کہ انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا میں کئی سودے کرتا ہوں ان میں سے میرے لیے کیا کیا حلال ہے تو آپ نے فرمایا جب تم کوئی سودا لو تو قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرو۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : ہم اسی بات کو اختیار کرتے ہیں امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا یہی قول ہے۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ مکانات اور اراضی کو خریدنے والا قبضہ سے پہلے فروخت کرسکتا ہے کیونکہ وہ غیر منقول ہیں اور اپنی جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہوسکتیں جبکہ دیگر اشیاء کا یہ حال نہیں ہے۔ مگر ہمارے ہاں قیاس کا تقاضا یہی ہے کہ سامان اور دیگر تمام اشیاء برابر ہیں جیسا کہ ہم نے غلہ کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے۔