۵۵۲۴: حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا الْقَعْنَبِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ بَرِیْرَۃَ جَائَ تْ تَسْتَعِیْنُہَا فِیْ کِتَابَتِہَا فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : اِنْ شَائَ أَہْلُکِ اشْتَرَیْتُکِ، وَنَقَدْتہمْ ثَمَنَک صَبَّۃً وَاحِدَۃً .فَذَہَبَتْ اِلٰی أَہْلِہَا ، فَقَالَتْ لَہُمْ ذٰلِکَ ، فَأَبَوْا اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ الْوَلَائُ لَہُمْ .فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِیْہَا ، وَلَا یَضُرُّکِ مَا قَالُوْا ، فَاِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ .قَالُوْا : فَلَمَّا کَانَ أَہْلُ بَرِیْرَۃَ أَرَادُوْا بَیْعَہَا عَلٰی أَنْ تُعْتَقَ ، وَیَکُوْنَ وَلَاؤُہَا لَہُمْ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا : لَا یَضُرُّکَ ذٰلِکَ ، فَاِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ دَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ ہٰکَذَا الشُّرُوْطُ کُلُّہَا ، الَّتِیْ تُشْتَرَطُ فِی الْبُیُوْعِ ، وَأَنَّہَا تَبْطُلُ ، وَتَثْبُتُ الْبُیُوْعُ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ أَنَّ ہٰذِہِ الْآثَارَ ہٰکَذَا رُوِیَتْ أَنَّہَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِیَہَا فَتُعْتِقَہَا ، فَأَبَی أَہْلُہَا اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ وَلَاؤُہَا لَہُمْ .وَقَدْ رَوَاہَا آخَرُوْنَ عَلٰی خِلَافِ ذٰلِکَ .
٥٥٢٤: قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی کہ بریرہ (رض) ان کی خدمت میں بدل کتابت میں معاونت کے لیے آئیں تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اگر تمہارے مالک چاہیں تو تمہیں نقد رقم یکمشت دے کر خرید لوں وہ اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور ان کو یہ بات بتلائی تو انھوں نے ولاء کی شرط سے اس بات کو تسلیم کرنے کی بات رکھی حضرت عائشہ (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا اسے خرید لو ان کی شرط تمہیں نقصان نہ دے گی اس لیے کہ ولاء تو آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔ جب حضرت بریرہ (رض) کے گھر والوں نے انھیں اس شرط پر فروخت کا ارادہ ظاہر کیا کہ ولاء ان کو ملے اور ان کو آزاد کیا جائے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا تمہارے لیے یہ بات مضر نہیں ہے۔ بلاشبہ ولاء تو آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے تو یہ اس بات کی دلالت ہے کہ بیع میں اس قسم کی شروط (جو خلاف عقد ہوں) وہ باطل ہوتی ہیں گویا یہ روایات فریق اوّل کے خلاف تب دلیل بن سکتی ہے جبکہ یہ آثار اسی طرح مروی ہوں کہ حضرت عائشہ (رض) نے خرید کر بریرہ (رض) کو آزاد کرنا چاہا اس کے مالکوں نے اس شرط پر فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی کہ ولاء ان کو ملے۔ دوسرے فریق کا مؤقف یہ ہے کہ یہ شرط سرے سے باطل ہے انھوں نے اس روایت کو مندرجہ ذیل طرق سے روایت کیا ہے۔