hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5535

.

الطحاوي

5535
Al Tahawi
۵۵۳۴: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، نَہٰی عَنْ بَیْعٍ وَسَلَفٍ .قَالُوْا : فَالْبَیْعُ فِیْ نَفْسِہِ شَرْطٌ ، فَاِذَا شُرِطَ فِیْہِ شَرْطٌ آخَرُ ، فَکَانَ ہَذَا شَرْطَیْنِ فِیْ بَیْعٍ ، فَہٰذَا ہُوَ الشَّرْطَانِ الْمَنْہِیُّ عَنْہُمَا عِنْدَہُمْ ، الْمَذْکُوْرَانِ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَقَدْ خُوْلِفُوْا فِیْ ذٰلِکَ فَقِیْلَ : الشَّرْطَانِ فِی الْبَیْعِ، ہُوَ: أَنْ یَقَعَ الْبَیْعُ عَلٰی أَلْفِ دِرْہَمٍ حَال أَوْ عَلَی مِائَۃِ دِیْنَارٍ اِلَیْ سَنَۃٍ ، فَیَقَعُ الْبَیْعُ عَلٰی أَنْ یُعْطِیَہُ الْمُشْتَرِی أَیَّہُمَا شَائَ ، فَالْبَیْعُ فَاسِدٌ ، لِأَنَّہٗ وَقَعَ بِثَمَنٍ مَجْہُوْلٍ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، مِمَّا قَدْ رُوِیَ عَنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
٥٥٣٤: عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ نے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع اور ادھار سے منع فرمایا۔ بیع بذات خود شرط ہے جب اس پر دوسری شرط لگا دیں تو یہ سودے میں دو شرطیں ہوگئیں جن کی ممانعت مندرجہ بالا روایت میں ہے۔ دو شرائط کی مراد کیا ہے :
نمبر ١ بیع اور ایک اور شرط لگانا جیسا ابھی کہا گیا ہے۔
نمبر ٢ دو شرائط سے مراد یہ ہے کہ اگر نقد لو تو ایک ہزار درہم قیمت اور اگر تم ایک سال بعد دو تو ایک سو دینار قیمت ہے تو اس سے سودا اس بات پر ہوا کہ خریدنے وال اجو چاہے دے تو یہ بیع فاسد ہے کیونکہ قیمت مجہول ہے۔ اس کی تائید اقوال صحابہ کرام سے سے ہوتی ہے۔