۵۵۴ : حَدَّثَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِی الْأَزْرَقُ بْنُ قَیْسٍ، عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہٗ أَبَانُ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِذَا أَہْرَقْتُ الْمَائَ اَذْکُرُ اللّٰہَ؟ قَالَ : أَیُّ شَیْئٍ اِذَا أَہَرَقْتَ الْمَائَ؟ قَالَ : اِذَا بُلْتُ، قَالَ : (نَعَمْ، اُذْکُرُ اللّٰہَ) .فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ رَوَیَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ لَمْ یَرُدَّ السَّلَامَ فِیْ حَالِ الْحَدَثِ حَتّٰی یَتَیَمَّمَ، وَہُمَا فَقَدْ قَرَآ الْقُرْآنَ فِیْ حَالِ الْحَدَثِ .وَلَا یَجُوْزُ ذٰلِکَ عِنْدَنَا، إِلَّا وَقَدْ ثَبَتَ النَّسْخُ أَیْضًا عِنْدَہُمَا .وَقَدْ تَابَعَہُمَا عَلٰی مَا ذَہَبَ إِلَیْہِ مِنْ ھٰذَا، قَوْمٌ.
٥٥٤: حجاج نے کہا کہ حماد کہتے ہیں کہ مجھے ازرق بن قیس نے ابان نامی آدمی کے واسطہ سے اطلاع دی کہ میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا جب میں پیشاب کروں کیا میں ذکر کرسکتا ہوں ؟ تو انھوں نے فرمایا : ” اھرقت المائ “ کیا چیز ہے ؟ اس نے کہا جب میں پیشاب کروں۔ آپ نے فرمایا ہاں تو ذکر کرسکتے ہو۔ یہ ابن عباس اور ابن عمر (رض) جنہوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو نہ ہونے کی حالت میں سلام کا جواب اس وقت تک نہیں دیا جب تک تیمم نہ کرلیا حالانکہ ان دونوں سے حدث و بےوضو ہونے کی حالت میں قرآن مجید کا پڑھنا ثابت ہے اور ہمارے ہاں یہ تبھی درست ہوسکتا ہے جبکہ ان کے ہاں نسخ ثابت ہوچکا ہو۔ کچھ علماء نے ان کے قول کو اپنایا ہے۔
قابل التفات :
نمبر ١: یہ ہے کہ تمام روایات حدث کی حالت میں ذکراللہ اور قراءت قرآن کو درست قرار دے رہی ہیں۔
نمبر ٢: یہی عبداللہ بن عمر اور ابن عباس (رض) پہلے روایت کر رہے ہیں کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حالت حدث میں تیمم کے بغیر سلام کا جواب نہیں دیا اور یہ دونوں حالت حدث میں ذکراللہ اور قراءت قرآن کا فتویٰ دے رہے ہیں ہمارے نزدیک یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ ہم پہلی روایت کو منسوخ مانیں اور مقدم مانیں اور ان کے اس فتویٰ کو مؤخر حکم مانیں ورنہ وہ طرز پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کیونکر کرسکتے ہیں۔
ہم یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ اس کی تائید میں یہ روایات پڑھ لو۔