۵۵۴۰: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَسَدٌ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِیْدٍ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ أَبِیْ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ نَضْلَۃَ ، قَالَ : کَانَتْ الدُّوْرُ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ ، مَا تُبَاعُ ، وَلَا تُکْرَی ، وَلَا تُدْعَیْ اِلَّا السَّوَائِبَ ، مَنْ احْتَاجَ سَکَنَ ، وَمَنِ اسْتَغْنَی أَسْکَنَ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہٰذِہِ الْآثَارِ فَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ بَیْعُ أَرْضِ مَکَّۃَ وَلَا اِجَارَتُہَا .وَمِمَّنْ قَالَ بِہٰذَا الْقَوْلِ ، أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَمُحَمَّدٌ ، وَسُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ رَحِمَہُ اللّٰہُ وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ .
٥٥٤٠: عثمان بن ابی سلیمان نے علقمہ بن نضلہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر ‘ عمرو عثمان (رض) کے زمانہ میں مکہ کے مکانات کو نہ فروخت کیا جاتا اور نہ کرایہ پر دیا جاتا۔ ان کو سوائب کہا جاتا تھا جو ضرورت مند ہوتا رہائش اختیار کرتا جس کو ضرورت نہ ہوتی وہ دوسرے کو ٹھہراتا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ مکہ کی زمین کو فروخت کرنا اور کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) اور سفیان ثوری (رح) کا قول ہے اور عطاء و مجاہد کا قول بھی یہی ہے۔