hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5552

.

الطحاوي

5552
Al Tahawi
۵۵۵۱: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ سَوَائَ اڑلْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ قَالَ : اَلنَّاسُ فِی الْبَیْتِ سَوَاء ٌ ، لَیْسَ أَحَدٌ أَحَقَّ بِہٖ مِنْ أَحَدٍ .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہٗ اِنَّمَا قَصَدَ بِذٰلِکَ اِلَی الْبَیْتِ أَوْ اِلَی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، لَا اِلَیْ سَائِرِ مَکَّۃَ ، وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ یُوْسُفَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ .
٥٥٥١: عبدالملک نے عطاء سے روایت کی کہ ” سواء العاکف فیہ والباد “ کہ لوگ بیت اللہ میں برابر ہیں کوئی ایک دوسرے سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس سے مسجد حرام یا بیت اللہ مراد ہے کہ عبادت کے لحاظ سے اس میں سب کا حق برابر ہے تمام مکہ مراد نہیں یہ امام ابو یوسف (رح) کا قول ہے۔
امام طحاوی (رح) نے یہاں امام ابو یوسف (رح) کے قول کو ترجیح دے کر اس کو دلائل سے ثابت کیا ہے ان کا اپنا رجحان اسی کی طرف ہے مکہ کی اراضی کو فروخت کرنا اور کرایہ پر دینا سب درست ہے۔ واللہ اعلم