hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5572

.

الطحاوي

5572
Al Tahawi
۵۵۷۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا ، عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ ، فَقَالَ : زَجَرَ عَنْ ذٰلِکَ ، رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قَالَ : أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی تَحْرِیْمِ أَثْمَانِ الْکِلَابِ کُلِّہَا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِأَثْمَانِ الْکِلَابِ کُلِّہَا ، الَّتِیْ یُنْتَفَعُ بِہَا .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، فِیْمَا احْتَجُّوْا بِہٖ عَلَیْہِمْ ، مِنَ الْآثَارِ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا ، أَنَّ الْکِلَابَ ، قَدْ کَانَ حُکْمُہَا أَنْ تُقْتَلَ کُلُّہَا ، وَلَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ اِمْسَاکُ شَیْئٍ مِنْہَا ، فَلَمْ یَکُنْ بَیْعُہَا حِیْنَئِذٍ بِجَائِزِ ، وَلَا ثَمَنُہَا بِحَلَالٍ .فَمِمَّا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ ،
٥٥٧١: ابوالزبیر نے بیان کیا کہ میں نے جابر (رض) سے کتے اور بلی کی قیمت کے متعلق دریافت کیا انھوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے جھڑکا ہے یعنی روکا ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت نے کلاب کی قیمت کو حرام قرار دیا اور ان کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں۔ دوسروں نے کہا تمام اقسام کے کتوں کی قیمت میں کوئی حرج نہیں جن کتوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہو۔ فریق اوّل کے مؤقف کا جواب یہ ہے کہ شروع میں تمام کتوں کے قتل کا حکم تھا اور کسی کتے کو بھی رکھنے کی اجازت نہ تھی اور اس وقت ان کی خریدو فروخت اور اجرت حرام تھی یہ روایات اس کی شاہد ہیں۔ (گزشتہ روایات کا تعلق اس زمانے سے ہے)
امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : علماء کی ایک جماعت نے کلاب کی قیمت کو حرام قرار دیا اور ان کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف : تمام اقسام کے کتوں کی قیمت میں کوئی حرج نہیں جن کتوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہو۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : شروع میں تمام کتوں کے قتل کا حکم تھا اور کسی کتے کو بھی رکھنے کی اجازت نہ تھی اور اس وقت ان کی خریدو فروخت اور اجرت حرام تھی یہ روایات اس کی شاہد ہیں۔ (گزشتہ روایات کا تعلق اس زمانے سے ہے)