۵۶۰۳: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّہٗ نَہٰی عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ ، وَالسِّنَّوْرِ اِلَّا کَلْبَ صَیْدٍ .وَقَدْ رَوَیْنَا عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، أَنَّہٗ نَہٰی عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَلَمْ یُفَسِّرْ أَیَّ کَلْبٍ ہُوَ ؟ فَلَمْ یَحِلَّ ذٰلِکَ مِنْ أَحَدِ وَجْہَیْنِ .اِمَّا أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ خِلَافَ کِلَابِ الْمَنَافِعِ أَوْ یَکُوْنَ أَرَادَ کُلَّ الْکِلَابِ ، ثُمَّ ثَبَتَ عِنْدَہٗ نَسْخُ کَلْبِ الصَّیْدِ مِنْہَا ، فَاسْتَثْنَاہُ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .
٥٦٠٣: ابوالزبیر نے جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کتے کی قیمت اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا مگر شکاری کتے کے سلسلہ میں اجازت دی ہم پہلے جابر (رض) کی روایت سے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول اس باب میں ذکر کر آئے ہیں کہ آپ نے کتے کی قیمت کی ممانعت فرمائی مگر اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کون سا کتا ہے ؟ تو اس طرح دونوں صورتوں میں سے ایک سے خالی نہیں۔ یا تو فائدہ دینے والے کتوں کا ارادہ فرمایا یا تمام کتے مراد ہیں۔ پھر جب ان کے ہاں شکاری کتے کے حکم کا منسوخ ہونا ثابت ہوگیا تو انھوں نے اس روایت میں اس کو مستثنیٰ کردیا۔