hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 561

.

الطحاوي

561
Al Tahawi
۵۶۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ : ثَنَا اَبِیْ‘ قَالَ : ثَنَا الْأَعْمَشُ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ .فَھٰذَا عِنْدَنَا أَوْلٰی مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لِمَا قَدْ وَافَقَہٗ مِمَّا قَدْ رَوَیْنَاہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فِیْ حَدِیْثِ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَأَبِیْ مُوْسٰی، وَمَالِکِ بْنِ عُبَادَۃَ .وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَیْضًا، مَا یَدُلُّ عَلٰی خِلَافِ مَا رَوَاہُ نَافِعٌ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ ڑالَّذِیْ ذَکَرْنَاہُ فِیْمَا تَقَدَّمَ فِیْ کِتَابِنَا ھٰذَا .
٥٦١: ابی نے کہا کہ اعمش نے اپنی اسناد سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ ہمارے ہاں یہ حضرت ابن عباس (رض) کے قول سے اولیٰ ہے کیونکہ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان ارشادات کے عین موافق ہے جو حضرت علی ‘ ابن عمر ‘ ابو موسیٰ اشعری اور مالک بن عبادہ (رض) سے مروی ہے اور یہی امام الہمام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد بن الحسن (رح) کا قول ہے اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی اسی قسم کی روایت وارد ہے جو نافع کی ابن عباس (رض) والی روایت جس کو محمد بن ثابت نے نقل کیا ہے اس کے مخالف ہے۔ اس روایت کو ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔
تخریج : دارقطنی ١؍١٦٢‘
حاصل کلام : ان دونوں روایتوں سے بھی اس بات کی تائید ہوگئی کہ جنابت والے کے لیے قراءت قرآن درست نہیں ہے اور یہ حضرت علی ‘ ابن عمر ‘ ابو موسیٰ ‘ مالک بن عبادہ (رض) کی روایات کے موافق و مؤید ہے پس یہ ابن عباس (رض) کے قول سے زیادہ بہتر ہے ہمارے ائمہ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد بن الحسن (رح) کا قول یہی ہے اور ابن عباس (رض) کے قول کا منسوخ ہونا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کا اپنا قول اور عمل اس کے خلاف منقول ہے جو واضح نسخ کی علامت ہے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت فرمایا جبکہ آپ سے کہا گیا : الا تتوضأ تو فرمایا : لا ارید الصلٰوۃ فاتوضأ“ اس سے ظاہر فرما دیا کہ وضو تو نماز کے لیے کیا جاتا ہے ذکر کے لیے ضروری نہیں۔