hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5611

.

الطحاوي

5611
Al Tahawi
۵۶۱۰: حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ قَالَ : سَمِعْتُ یَزِیْدَ بْنَ ہَارُوْنَ قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ سَلْمَۃَ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔، اِلَّا أَنَّہٗ لَمْ یَقُلْ اشْتَرُوْا لَہٗ وَقَالَ اُطْلُبُوْا .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی اِجَازَۃِ اسْتِقْرَاضِ الْحَیَوَانِ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ اسْتِقْرَاضُ الْحَیَوَانِ .وَقَالُوْا : یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ ہٰذَا، کَانَ قَبْلَ تَحْرِیْمِ الرِّبَا ، ثُمَّ حُرِّمَ الرِّبَا بَعْدَ ذٰلِکَ ، وَحُرِّمَ کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَۃً ، وَرُدَّتِ الْأَشْیَائُ الْمُسْتَقْرَضَۃُ اِلٰی أَمْثَالِہَا ، فَلَمْ یَجُزِ الْقَرْضُ اِلَّا فِیْمَا لَہٗ مِثْلٌ ، وَقَدْ کَانَ أَیْضًا - قَبْلَ نَسْخِ الرِّبَا - یَجُوْزُ بَیْعُ الْحَیَوَانِ بِالْحَیَوَانِ ، نَسِیْئَۃً .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ذٰلِکَ
٥٦١٠: سفیان نے ابو سلمہ سے روایت کی پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت کی مگر اشتروا کی بجائے اطلبوا کا لفظ ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : بعض علماء کہتے ہیں جانور کو قرض کے طور پر لینا جائز ہے اور انھوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی جانور کو بطور قرض لینا جائز نہیں عین ممکن ہے کہ روایت میں جس چیز کا تذکرہ ہے یہ حرمت سود سے پہلے کی بات ہو جب سود حرام ہوا تو ہر قرض جو نفع لائے اس کو حرام قرار دیا گیا اور قرض پر طلب کی جانے والی اشیاء کو ان کے اصل کی طرف لوٹا دیا گیا قرض انہی چیزوں میں درست ہے جن چیزوں کی مثل موجود ہو۔ سود کے حرام ہونے سے پہلے حیوان کی بیع حیوان کے بدلے ادھار جائز تھی۔ یہ روایت ابن ابو داؤد اس کی دلیل ہے۔