۵۶۶۱: حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قَرَأَ عَلَیَّ شُعَیْبٌ حَدَّثَنَا مُوْسَی بْنُ عَلِی ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ مَنْصُوْرٍ عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ قَالَ : مَرَّ بِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَمَعَہٗ وَرِقٌ فَقَالَ اصْنَعْ لَنَا أَوْضَاحًا لِصَبِیْ لَنَا .قُلْتُ :یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ، عِنْدِی أَوْضَاحٌ مَعْمُوْلَۃٌ ، فَاِنْ شِئْتُ أَخَذْتُ الْوَرِقَ وَأَخَذْتَ الْأَوْضَاحَ .فَقَالَ عُمَرُ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَقُلْت نَعَمْ فَوَضَعَ الْوَرِقَ فِیْ کِفَّۃِ الْمِیزَانِ ، وَالْأَوْضَاحَ فِی الْکِفَّۃِ الْأُخْرَی ، فَلَمَّا اسْتَوَی الْمِیزَانُ ، أَخَذَ بِاِحْدٰی یَدَیْہِ، وَأَعْطٰی بِالْأُخْرٰی .
٥٦٦١: ابو رافع کہتے ہیں کہ میرے پاس سے عمر (رض) کا گزر ہوا۔ ان کے پاس چاندی تھی تو انھوں نے کہا ہماری ایک بچی کے لیے زیور بنادو ۔ میں نے کہا اے امیرالمؤمنین میرے پاس استعمال شدہ زیور ہیں اگر تم پسند کرو تو چاندی لے کر زیور دے دو ۔ عمر (رض) کہنے لگے برابر برابر میں نے کہا جی ہاں چنانچہ انھوں نے چاندی کو ایک پلڑے میں رکھا اور دوسرے میں زیورات رکھے جب وزن برابر ہوگیا تو ایک ہاتھ سے زیور لے لیا اور دوسرے سے چاندی دے دی۔