hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5664

.

الطحاوي

5664
Al Tahawi
۵۶۶۳: مَا قَدْ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ قَالَ ، ثِنَا حَمَّادٌ ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ أَبِیْ ہِنْدٍ ، عَنْ أَبِیْ نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی الصَّہْبَائِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَزَعَ عَنِ الصَّرْفِ .فَہٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، وَہُوَ الَّذِیْ رَوٰی عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ اِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسِیْئَۃِ وَتَأَوَّلَ ذٰلِکَ عَلَی اِجَازَۃِ الْفِضَّۃِ بِالْفِضَّۃِ ، وَالذَّہَبِ بِالذَّہَبِ مِثْلَیْنِ بِمِثْلٍ ، وَأَکْثَرَ - مِنْ ذٰلِکَ ، قَدْ رَجَعَ عَنْ قَوْلِہٖ ذٰلِکَ .فَاِمَّا أَنْ یَکُوْنَ رُجُوْعُہُ لِعِلْمِہِ أَنَّ مَا کَانَ أُسَامَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَدَّثَہٗ اِنَّمَا ہُوَ رِبَا الْقُرْآنِ ، وَعَلِمَ أَنَّ رِبَا النَّسِیْئَۃِ بِغَیْرِ ذٰلِکَ أَوْ یَکُوْنُ ثَبَتَ عِنْدَہُ مَا خَالَفَ حَدِیْثَ أُسَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، مِمَّا لَمْ یَثْبُتْ مِنْہٗ، حَدِیْثُ أُسَامَۃَ مِنْ کَثْرَۃِ مَنْ نَقَلَہُ لَہٗ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی قَامَتْ عَلَیْہِ بِہٖ الْحُجَّۃُ وَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ فِیْ حَدِیْثِ أُسَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، لِأَنَّہٗ خَبَرُ وَاحِدٍ - ، فَرَجَعَ اِلَی مَا جَائَ تْ بِہٖ الْجَمَاعَۃُ ، الَّذِیْنَ تَقُوْمُ بِنَقْلِہِمُ الْحُجَّۃُ ، وَتَرَکَ مَا جَائَ بِہٖ الْوَاحِدُ ، الَّذِیْ قَدْ یَجُوْزُ عَلَیْہِ السَّہْوُ وَالْغَلَطُ وَالْغَفْلَۃُ .وَہٰذَا الَّذِیْ بَیَّنَّا فِی الصَّرْفِ ، قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٥٦٦٣: ابو نضرہ نے ابوالصہباء سے روایت کی کہ ابن عباس (رض) نے اپنے قول سے رجوع کرلیا۔ یہ ابن عباس (رض) ہیں جنہوں نے اسامہ بن زید (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ سود تو ادھار میں ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونے کی بیع ایک مثل کے بدلے دو ۔ زیادہ مثل کی صورت میں جائز ہے اور انھوں نے اس سے رجوع کرلیا تو ان کا رجوع یا تو اس بات کے معلوم ہوجانے کی وجہ سے تھا کہ حضرت اسامہ (رض) نے جو کچھ ان سے بیان کیا کہ اس سے مراد وہ ربا ہے جس کا قرآن مجید میں تذکرہ ہے اور ان کو معلوم ہوگیا کہ ادھار والا سود اور ہے یا پھر ان کے ہاں حضرت اسامہ (رض) کی روایت کے خلاف روایت اس طریقہ پر ثابت ہوئی کہ حضرت اسامہ (رض) کی روایت اس طرح ثابت نہ ہوئی جیسا کہ دوسری روایات ہیں کیونکہ وہ نہایت کثرت سے منقول ہیں۔ اس لیے یہ روایت ان کے لیے حجت بن گئی اور یہ بات حضرت اسامہ (رض) کی روایت میں نہ تھی۔ کیونکہ وہ تو خبر واحد ہے۔ چنانچہ ان کا رجوع اس روایت کی طرف ہوا جس کو ایک بڑی جماعت نے نقل کیا کہ ان کا نقل کرنا حجت بن جاتا ہے اور انھوں نے خبر واحد کو چھوڑ دیا۔ کیونکہ اس میں بھولنے اور غلطی کا امکان ہے۔ یہ جو اوپر بیان کیا گیا امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
حاصل روایت : حضرت ابن عباس (رض) کے ہاں پہلے روایت اسامہ کی وجہ سے صرف رباء نسیہ حرام تھا پھر ابی بن کعب کے ساتھ اور ابو سعید خدری کے ساتھ گفتگو کے بعد تفاضل میں بھی رباء کے قائل ہوگئے اسی کو طحاوی (رح) نے ثابت کر کے ترجیح دی ہے۔
(المرقاۃ)