۵۶۹۲: وَاِذَا یُوْنُسُ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ دَاوٗدَ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ أَبِی غَطَفَانَ بْنِ طَرِیْفٍ الْمَرِیِّ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ مَنْ وَہَبَ ہِبَۃً لِصِلَۃِ رَحِمٍ أَوْ عَلَی وَجْہِ صَدَقَۃٍ فَاِنَّہٗ لَا یَرْجِعُ فِیْہَا وَمَنْ وَہَبَ ہِبَۃً یَرَی أَنَّہٗ اِنَّمَا یُرَادُ بِہٖ الثَّوَابُ فَہُوَ عَلَی ہِبَتِہِ یَرْجِعُ فِیْہَا اِنْ لَمْ یَرْضَ مِنْہَا .فَہٰذَا عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ فَرَّقَ بَیْنَ الْہِبَاتِ وَالصَّدَقَاتِ فَجَعَلَ الصَّدَقَاتِ لَا یَرْجِعُ فِیْہَا وَجَعَلَ الْہِبَاتِ عَلَی ضَرْبَیْنِ .فَضَرْبٍ مِنْہَا صِلَۃُ الْأَرْحَامِ فَرَدَّ ذٰلِکَ اِلَی حُکْمِ الصَّدَقَاتِ وَمَنَعَ الْوَاہِبَ مِنِ الرُّجُوْعِ فِیْہَا وَضَرْبٍ مِنْہَا خِلَافُ ذٰلِکَ فَجَعَلَ لِلْوَاہِبِ أَنْ یَرْجِعَ فِیْہِ مَا لَمْ یَرْضَ مِنْہُ .
٥٦٩٢: مروان بن حکم نے بیان کیا کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا جس نے صلہ رحمی کے لیے کوئی ہبہ کیا یا بطور صدقہ ہبہ کیا وہ اس میں رجوع نہ کرے اور جس نے اس لیے ہبہ کیا کہ اس سے مقصود صرف حصول ثواب تھا۔ تو وہ اپنے ہبہ کے بارے میں اختیار رکھتا ہے اگر وہ اس کو اس کے ہاں پسند نہ کرے تو لوٹا لے۔ یہ حضرت عمر (رض) ہیں جنہوں نے ہبہ اور صدقہ میں تفریق کردی۔ صدقات کو نہ لوٹانے والا قرار دیا اور عطیات کے متعلق دو قسمیں کردیں۔
نمبر ١ جو صرف صلہ رحمی کی خاطر ہو تو صدقات کے حکم میں رکھا جائے گا اور ہبہ کرنے والا ان کو لوٹا نہیں سکتا۔
نمبر ٢ اگر واہب اس کے استعمال پر خوش نہ ہو تو اس کو واپس کرسکتا ہے۔