hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5699

.

الطحاوي

5699
Al Tahawi
۵۶۹۸: مَا قَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ اَلْمَوَاہِبُ ثَلَاثَۃٌ رَجُلٌ وَہَبَ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُسْتَوْہَبَ فَہِیَ کَسَبِیْلِ الصَّدَقَۃِ فَلَیْسَ لَہٗ أَنْ یَرْجِعَ فِیْ صَدَقَتِہٖ۔وَرَجُلٌ اُسْتُوْہِبَ فَوَہَبَ فَلَہُ الثَّوَابُ فَاِنْ قَبِلَ عَلٰی مَوْہِبَتِہٖ ثَوَابًا فَلَیْسَ لَہٗ اِلَّا ذٰلِکَ وَلَہٗ أَنْ یَرْجِعَ فِیْ ہِبَتِہٖ مَا لَمْ یُثَبْ .وَرَجُلٌ وَہَبَ وَاشْتَرَطَ الثَّوَابَ فَہُوَ دَیْنٌ عَلٰی صَاحِبِہَا فِیْ حَیَاتِہٖ وَبَعْدَ وَفَاتِہٖ۔فَہٰذَا أَبُو الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ جَعَلَ مَا کَانَ مِنَ الْہِبَاتِ مَخْرَجُہُ مَخْرَجَ الصَّدَقَاتِ فِیْ حُکْمِ الصَّدَقَاتِ .وَمَنَعَ الْوَاہِبَ مِنَ الرُّجُوْعِ فِیْ ذٰلِکَ کَمَا یُمْنَعُ الْمُتَصَدِّقُ مِنَ الرُّجُوْعِ فِیْ صَدَقَتِہٖ۔وَجَعَلَ مَا کَانَ مِنْہَا بِغَیْرِ ہٰذَا الْوَجْہِ مِمَّا لَمْ یُشْتَرَطْ ثَوَابٌ مِمَّا یَرْجِعُ فِیْہِ مَا لَمْ یُثَبَ الْوَاہِبُ عَلَیْہِ .وَجَعَلَ مَا اُشْتُرِطَ فِیْہِ الْعِوَضُ فِیْ حُکْمِ الْمَبِیْعِ فَجَعَلَ الْعِوَضَ لِوَاہِبِہٖ وَاجِبًا عَلَی الْمَوْہُوْبِ لَہُ فِیْ حَیَاتِہٖ وَبَعْدَ وَفَاتِہِ فَہٰذَا حُکْمُ الْہِبَاتِ عِنْدَنَا .فَأَمَّا مَا ذَکَرْنَا مِنْ انْقِطَاعِ رُجُوْعِ الْوَاہِبِ فِیْ ہِبَتِہٖ لِمَوْتِ الْمَوْہُوْبِ لَہٗ أَوْ بِاسْتِہْلَاکِہِ الْہِبَۃَ فَلِمَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ .
٥٦٩٨: راشد بن سعد نے ابوالدرداء (رض) سے روایت کی ہے کہ ہبہ کرنے والے تین ہیں۔
نمبر ١ ایک وہ آدمی جو خود ہبہ کرتا ہے مگر خود اس سے کسی ہبہ کا طالب نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرنے کی طرح ہے اس کو اپنا صدقہ لوٹانا جائز نہیں۔
نمبر ٢ وہ آدمی جس نے ہبہ طلب کیا اس کو ہبہ کردیا گیا تو اس کو تو بدلہ ملے گا اور اگر اس نے اپنے ہبہ پر بدلے کو قبول کرلیا تو اس کو یہی کچھ ملے گا اور یہ اپنے ہبہ کو بدلہ ملنے سے پہلے پہلے لوٹا سکتا ہے۔
نمبر ٣ جس آدمی نے اس شرط پر ہبہ کیا کہ اس کو بدلہ دینا پڑے گا تو یہ موہوب لہ پر دین ہوگا جو کہ زندگی اور موت کے بعد بھی دینا پڑے گا۔ یہ حضرت ابوالدرداء (رض) ہیں انھوں نے ہبات کی تین اقسام بتلائیں۔
نمبر ١ جو صدقات کی طرح ہیں تو ان کا حکم بھی صدقات والا ہے اس میں ہبہ کرنے والے کو رجوع درست نہیں جیسے کہ صدقہ کرنے والے کو اپنے صدقہ سے رجوع جائز نہیں ہے۔
نمبر ٢ دوسری قسم وہ قرار دی جس میں بدلے کو شرط قرار نہ دیا جائے اس میں ہبہ کرنے والے کو رجوع کا اس وقت تک حق ہے جب تک کہ اس کا بدلہ نہ لے۔
نمبر ٣ اس قسم میں عوض کو شرط قرار دیا گیا یہ بیع کا حکم میں ہے اس میں واہب کو عوض دینا موہوب لہ پر لازم ہوجائے گا یہ زندگی اور موت دونوں میں لازم رہے گا ہمارے ہاں بھی ہباب کا یہی حکم ہے باقی ہمارے ہاں موہوب لہ کے مرجانے یا اس چیز کے ہلاک کردینے کی صورت میں ہبہ کرنے والے کا حق رجوع ختم ہوجاتا ہے یہ اس لیے کہا کہ حضرت عمر (رض) سے اس طرح مروی ہے۔