۵۷۰۲: حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ عَنْ أَیُّوْبَ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ امْرَأَۃً وَہَبَتْ لِزَوْجِہَا ہِبَۃً ثُمَّ رَجَعَتْ فِیْہَا فَاخْتَصَمَا اِلَی شُرَیْحٍ فَقَالَ لِلزَّوْجِ شَاہِدَاک أَنَّہُمَا رَأَیَاہَا وَہَبَتْ لَک مِنْ غَیْرِ کُرْہٍ وَلَا ہَوَانٍ وَاِلَّا فَیَمِیْنُہَا لَقَدْ وَہَبَتْ لَک عَنْ کُرْہٍ وَہَوَانٍ فَہٰذَا شُرَیْحٌ قَدْ سَأَلَ الزَّوْجَ الْبَیِّنَۃَ أَنَّہَا وَہَبَتْ لَہُ لَا عَنْ کُرْہٍ بَعْدَ ارْتِجَاعِہَا فِی الْہِبَۃِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ السُّنَّۃَ لَوْ ثَبَتَتْ عِنْدَہُ عَلٰی ذٰلِکَ لَرَدَّ الْہِبَۃَ اِلَیْہَا وَلَمْ یَجُزْ لَہَا الرُّجُوْعُ فِیْہَا .وَقَدْ کَانَ مِنْ رَأْیِہِ أَنَّ لِلْوَاہِبِ الرُّجُوْعَ فِیْ ہِبَتِہِ اِلَّا مِنْ ذِی الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ فَجَعَلَ الْمَرْأَۃَ فِیْ ہٰذَا کَذِی الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ فَہٰکَذَا نَقُوْلُ .وَأَمَّا ہِبَۃُ الزَّوْجِ لِامْرَأَتِہِ
٥٧٠٢: ایوب نے محمد سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کو ایک چیز ہبہ کی پھر اس کو لوٹایا۔ دونوں اپنا مقدمہ قاضی شریح کی خدمت میں لائے تو آپ نے خاوند کو فرمایا کہ تم دو گواہ پیش کرو کہ جنہوں نے دیکھا ہو کہ اس عورت نے تمہیں کسی جبر واکراہ اور سستی کے بغیر ہبہ کیا ورنہ وہ قسم اٹھائے گی کہ اس نے یہ عطیہ مجبوراً اور ذلت و عجز کے بغیر دیا۔ یہ شریح ہیں کہ جنہوں نے خاوند سے دلیل کا مطالبہ کیا کہ اس نے واقعۃً خاوند کو ہبہ کیا ہے اس میں زبردستی کا دخل نہ تھا یہ بات آپ نے ہبہ لوٹانے کے بعد فرمائی اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اگر یہ روایت ان کے ہاں ثابت ہوتی تو ہبہ خاوند کی طرف لوٹاتے اور عورت کے لیے رجوع کو جائز قرار نہ دیتے۔ قاضی شریح (رح) کی رائے یہی تھی کہ ہبہ کرنے والا ہبہ میں رجوع کرسکتا ہے البتہ ذی رحم محرم سے رجوع نہیں کرسکتا انھوں نے عورت کو اس مسئلہ میں ذی رحم محرم سے رجوع نہیں کرسکتا انھوں نے عورت کو اس مسئلہ میں ذی رحم محرم کی طرح قرار دیا ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں۔