hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5705

.

الطحاوي

5705
Al Tahawi
۵۷۰۴: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْھَاعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ أَنَّہٗ قَالَ الزَّوْجُ وَالْمَرْأَۃُ بِمَنْزِلَۃِ ذِی الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ اِذَا وَہَبَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہٖ لَمْ یَکُنْ لَہٗ أَنْ یَرْجِعَ .فَجُعِلَ الزَّوْجَانِ فِیْ ہٰذِہِ الْأَحَادِیْثِ کَذِی الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ فَمَنَعَ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنِ الرُّجُوْعِ فِیْمَا وَہَبَ لِصَاحِبِہٖ فَہٰکَذَا نَقُوْلُ .وَقَدْ وَصَفْنَا فِیْ ہٰذَا مَا ذَہَبْتُ اِلَیْہِ فِی الْہِبَاتِ وَمَا ذَکَرْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْآثَارِ اِذْ لَمْ نَعْلَمْ عَنْ أَحَدٍ مِثْلِ مَنْ رَوَیْنَاہَا عَنْہُ خِلَافًا لَہَا .فَتَرَکْنَا النَّظَرَ مِنْ أَجْلِہَا وَقَلَّدْنَاہَا .وَقَدْ کَانَ النَّظْرُ - لَوْ خَلَّیْنَا وَاِیَّاہُ - خِلَافَ ذٰلِکَ وَہُوَ أَنْ لَا یَرْجِعَ الْوَاہِبُ فِی الْہِبَۃِ لِغَیْرِ ذِی الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ ؛ لِأَنَّ مِلْکَہُ قَدْ زَالَ عَنْہَا بِہِبَۃِ اِیَّاہَا وَصَارَ لِلْمَوْہُوْبِ لَہُ دُوْنَہٗ فَلَیْسَ لَہُ نَقْضُ مَا قَدْ مَلَکَ عَلَیْہِ اِلَّا بِرِضَائِ مَالِکِہٖ۔ وَلٰـکِنْ اتِّبَاعُ الْآثَارِ وَتَقْلِیْدُ أَئِمَّۃِ أَہْلِ الْعِلْمِ أَوْلَی فَلِذٰلِکَ قَلَّدْنَاہَا وَاقْتَدَیْنَاہَا .وَجَمِیْعُ مَا بَیَّنَّا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٥٧٠٤: حماد نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا میاں اور بیوی بمنزلہ ذی رحم محرم کے ہیں جب ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو ہبہ کرے تو وہ اسے لوٹا نہیں سکتا۔ ان تمام آثار میں میاں بیوی کو ہبہ میں ذی رحم محرم کی طرح قرار دیا گیا ہے جو بھی ایک دوسرے کو ہبہ کردیں تو اس میں رجوع جائز نہیں ہے ہم احناف کا قول بھی یہی ہے۔ ہم نے جو کچھ ہبہ کی اشیاء کے سلسلہ میں اپنا مذہب بیان کیا اس کے لیے جو روایات ہم نے ذکر کی ہیں ان کے خلاف اس قسم کی روایات ہم نہیں پاتے اسی وجہ سے ہم نے قیاس کو ترک کر کے انہی کو اختیار کیا ہے۔ اگر قیاس کا صرف لحاظ کیا جائے تو وہ ان روایات کے مخالف ہے وہ اس طرح کہ ہبہ کرنے والا جس طرح ذی رحم محرم کو دی ہوئی چیز واپس نہیں کرسکتا اسی طرح وہ غیر ذی رحم محرم سے بھی واپس نہ کرسکتا کیونکہ ہبہ کرنے کی وجہ سے اس چیز سے اس کی ملک زائل ہوگئی اور وہ موہوب لہ کی ملک بن گئی اس کی نہیں رہی۔ تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کی ملکیت کو توڑے البتہ اس کے مالک کی مرضی سے ایسا کر سکنا ممکن ہے۔ لیکن روایات کی اتباع اور اہل علم ائمہ کرام کی تقلید زیادہ بہتر ہے اسی وجہ سے ہم نے ان روایات کو اپنایا۔ اس باب میں جو بیان کیا گیا یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا مسلک ہے۔
ہبہ زوجین میں احناف نے ان کو ذی رحم محرم کے حکم میں قرار دے کر ہبہ کی واپسی کو درست قرار نہیں دیا۔ امام طحاوی (رح) نے اسی کو راجح کہا ہے۔