۵۷۱۹: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ کَاسِبٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَجَائَ ابْنٌ لَہٗ فَقَبَّلَہُ وَأَجْلَسَہُ عَلَی فَخِذِہِ ثُمَّ جَائَ تِ بِنْتٌ لَہٗ فَأَجْلَسَہَا اِلَیْ جَنْبِہٖ قَالَ فَہَلَّا عَدَلْتُ بَیْنَہُمَا .أَفَلَا یَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَرَادَ مِنْہُ التَّعْدِیْلَ بَیْنَ الِابْنَۃِ وَالِابْنِ وَأَنْ لَا یُفَضِّلَ أَحَدَہُمَا عَلَی الْآخَرِ فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فِی الْعَطِیَّۃِ أَیْضًا .
٥٧١٩: زہری نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک آدمی تھا اس کا بیٹا آیا تو اس نے اسے چوما اور اپنی ران پر بٹھا لیا پھر اس کی بیٹی آئی تو اس نے اسے پہلو میں بٹھا لیا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے ان کے مابین برابری کیوں قائم نہیں کی۔ کیا اس بات کے مخالف کو نظر نہیں آتا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ارشاد کے ذریعہ بیٹی اور بیٹے کے درمیان سلوک میں برابری اور ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دینے کا ارادہ فرمایا تو یہ اس بات کی بھی دلیل ہے جس کو ہم نے عطیہ کے ضمن میں ذکر کیا۔ کیا اس بات کے مخالف کو نظر نہیں آتا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ارشاد کے ذریعہ بیٹی اور بیٹے کے درمیان سلوک میں برابری اور ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دینے کا ارادہ فرمایا تو یہ اس بات کی بھی دلیل ہے جس کو ہم نے عطیہ کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔
فریق اوّل کے لیے اشارہ جواب :
اعتدال کا حکم استحباب کے لیے اور اعتدال سے نکلنے کو جور سے تغلیظاً تعبیر کیا گیا عمل صحابہ (رض) اس کی حرمت کے منافی ہے۔ فتدبر۔ (البذل ج ٤)
حاصل کلام : اس باب میں اولاد کے مابین عطیات میں برابری کا استحباب ثابت کیا اور اس کی فرضیت و وجوب کو مضبوط دلائل سے مسترد کیا گیا ہے۔ عمل صحابہ کرام (رض) سے اس کی تائید بھی پیش کی گئی ہے۔
الحمد اللہ قدتم ھذا الباب لیلۃ الثلاثاء الثالث من الربیع الاول ١٤٢٩ ھ۔