۵۷۲۸: أَنَّ فَہْدًا حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ بْنُ یَعِیْشَ قَالَ : ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ قَالَ : قَالَ لِیْ مُعَاوِیَۃُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَی فَہِیَ لَہٗ یَرِثُہَا مِنْ عَقِبِہٖ مَنْ یَرِثُہُ .فَدَلَّ ہٰذَا الْحَدِیْثُ عَلٰی أَنَّ أَہْلَہَا الَّذِیْنَ جَازَتْ لَہُمْ ہُمُ الْمُعْمَرُوْنَ لَا الْمُعْمِرُوْنَ .
٥٧٢٨: محمد بن حنفیہ کہنے لگے مجھے حضرت معاویہ نے کہا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے جس نے عمریٰ کیا تو معمر اس چیز کا مالک ہے اور اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء اس کے وارث ہوں گے (عمریٰ کرنے والا نہیں) اس روایت سے معلوم ہوا کہ اہلھا سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو انعام دیا گیا وہ معمر ہیں۔
تخریج : مسلم فی الہبات ٢١؍٢٢‘ نسائی فی العمریٰ باب ٣‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ٣‘ مسند احمد ٣؍٣٦٠۔