۵۷۳۳: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍوْ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ لَا عُمْرَی فَمَنْ أَعْمَرَ شَیْئًا فَہُوَ لَہٗ فَقَالَ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی : فَنَحْنُ لَا نُنْکِرُ أَنْ یَکُوْنَ الْعُمْرَی لِمَنْ أَعْمَرَہَا وَاِنَّمَا قُلْنَا : اِنَّہَا تَرْجِعُ اِلَی الْمُعْمِرِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُعْمَرِ .فَکَانَ مِنْ حُجَّتِنَا عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی فِیْمَا ذَکَرْنَا مِنَ الْآثَارِ عَنِ الْعُمْرَی .فَاسْتَحَالَ أَنْ یَکُوْنَ نَہٰی عَنْہَا وَہِیَ تَجْرِیْ کَمَا عُقِدَتْ وَلٰـکِنَّہٗ نَہٰی عَنْہَا لِأَنَّہَا تَجْرِیْ عَلَی خِلَافِ ذٰلِکَ . قَالَ فَمَنْ أَعْمَرَ شَیْئًا فَہُوَ لَہٗ فَأَرْسَلَ ذٰلِکَ وَلَمْ یَقُلْ فَہُوَ لَہٗ مَا دَامَ حَیًّا .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّہَا لَہٗ کَسَائِرِ مَالِہِ فِیْ حَیَاتِہٖ وَبَعْدَ مَمَاتِہٖ۔فَہٰذَا مَعْنَی مَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ جَعَلَہَا جَائِزَۃً أَیْ جَائِزَۃً لِلْمُعْمَرِ فِیْہَا بَعْدَ ذٰلِکَ أَبَدًا .وَمِمَّا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ جَعَلَہَا جَائِزَۃً
٥٧٣٣: ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمریٰ درست نہیں جس نے کردیا وہ شئی معمر کی ہوجائے گی۔ قائلین مسلک اول سے کہتا ہے ہمیں اس سے انکار نہیں کہ عمریٰ معمر کا ہوتا ہے بس ہم تو اتنی بات کہتے ہیں کہ وہ معمر کی طرف معمر کی موت کے بعد لوٹ جائے گا۔ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان آثار میں عمریٰ سے منع فرمایا ہے یہ بات ناممکن ہے کہ منع بھی فرمایا جائے اور اس کو برقرار بھی رکھا جائے۔ کیونکہ وہ تو اس کے مخالف ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” من اعمر شیئا فہو لہ “ کو مطلق طور پر فرمایا مادام حیا کی قید نہ لگائی اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ اس کے لیے دیگر تمام اموال کی طرح ہوگی زندگی میں اور موت کے بعد بھی۔ عمریٰ ایک انعام ہے۔ عمری کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جائز (انعام) قرار دیا روایت یہ ہے۔