hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 574

.

الطحاوي

574
Al Tahawi
۵۷۴ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَیْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہٗ قَالَ : (بَوْلُ الْجَارِیَۃِ یُغْسَلُ غَسْلًا، وَبَوْلُ الْغُلَامِ یُتَّبَعُ بِالْمَائِ) .أَفَلَا تَرٰی أَنَّ سَعِیْدًا قَدْ سَوّٰی بَیْنَ حُکْمِ الْأَبْوَالِ کُلِّہَا مِنَ الصِّبْیَانِ وَغَیْرِہِمْ؟ فَجَعَلَ مَا کَانَ مِنْہُ رَشًّا، یَطْہُرُ بِالرَّشِّ، وَمَا کَانَ مِنْہُ صَبًّا، یَطْہُرُ بِالصَّبِّ .لَیْسَ أَنَّ بَعْضَہَا عِنْدَہٗ طَاہِرٌ، وَبَعْضَہَا غَیْرُ طَاہِرٍ، وَلٰکِنَّہَا کُلَّہَا عِنْدَہٗ نَجَسَۃٌ وَفَرْقٌ بَیْنَ التَّطَہُّرِ مِنْ نَجَاسَتِہَا عِنْدَہٗ، بِضِیْقِ مَخْرَجِہَا وَسَعَتِہٖ .ثُمَّ أَرَدْنَا بَعْدَ ذٰلِکَ، أَنْ نَنْظُرَ فِی الْآثَارِ الْمَأْثُوْرَۃِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ہَلْ فِیْہَا مَا یَدُلُّ عَلٰی شَیْئٍ مِمَّا ذَکَرْنَا؟ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ، فَإِذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ یُوْنُسَ۔
٥٧٤ : حسن نے فرمایا لڑکی کے پیشاب کو خوب مل کر دھویا جائے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دیا جائے۔ ان دونوں آثار سے یہ بات ثابت ہوئی کہ پیشابوں کا حکم برابر ہے خواہ بچہ ہو یا بچی البتہ معمولی چھینٹے پر پانی کے چھینٹے کافی ہیں اور پیشاب کے بہہ جانے پر پانی بہایا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھونے میں مبالغہ کیا جائے گا معلوم ہوا کہ ان میں وجہ فرق تنگی مخرج ہے نہ کہ طہارت و نجاست۔ کیا آپ غور نہیں کرتے کہ سعید (رح) نے تمام بچوں کے پیشاب کو برابر قرار دیا۔ پھر انھوں نے جو چھینٹوں کی صورت میں گرتا ہے اس کے لیے پانی چھڑکنے کو کافی قرار دیا اور جو زور سے بہنے والے ہیں ان کو پانی بہا دینے سے پاک قرار دیا۔ ایسا نہیں کہ بعض کو انھوں نے پاک کہا ہو اور دوسروں کو ناپاک قرار دیا ہو بلکہ ان کے ہاں تمام پلید اور گندگی ہیں ‘ صرف ان کی نجاست کے ازالہ میں ان کے ہاں فرق ہے۔ اس کا سبب مخرج کی تنگی اور وسعت ہے۔ اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ منقولہ آثار پر نگاہ ڈالیں تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ آیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کوئی چیز ایسی منقول ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے۔ پس تلاش پر یہ آثار سامنے آئے۔