۵۷۴۴: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ أَبِیْ ثَابِتٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ - وَسَأَلَہٗ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ وَہَبَ لَہٗ رَجُلٌ نَاقَۃً حَیَاتَہٗ فَنَتَجَتْ أَیْ وَلَدَتْ فَقَالَ : ہِیَ لَہٗ وَأَوْلَادُہَا فَسَأَلْتُہٗ بَعْدَ ذٰلِکَ فَقَالَ : ہِیَ لَہٗ حَیًّا وَمَیِّتًا وَاللّٰہُ أَعْلَمُ .
٥٧٤٤: حبیب بن ابی ثابت (رض) نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ سے ایک شخص نے اس آدمی کے متعلق پوچھا جس نے زندگی بھر کے لیے کسی کو اونٹنی دی اور اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انھوں نے فرمایا وہ اونٹنی اور اس کی اولاد اسی شخص کے لیے ہے میں نے بعد میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا وہ اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی اسی کے لیے ہے۔
بہرحال عمریٰ نہ چاہیے اگر کسی نے کردیا تو وہ مال معطی کی طرف نہ لوٹ سکے گا خواہ معطی کی زندگی میں معمر کی موت واقع ہو یا بعد میں بلکہ وہ معمر اور اس کے ورثاء کا مال ہے وراثت کی طرح تقسیم ہوگا۔