hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5758

.

الطحاوي

5758
Al Tahawi
۵۷۵۷: وَقَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ أَبِیْ خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ لَا یُنْتَفَعُ مِنَ الرَّہْنِ بِشَیْئٍ .فَہٰذَا الشَّعْبِیُّ یَقُوْلُ ہٰذَا وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ذَکَرْنَا .فَیَجُوْزُ عَلَیْہِ أَنْ یَکُوْنَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ یُحَدِّثُہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ ثُمَّ یَقُوْلُ ہُوَ بِخِلَافِہِ وَلَمْ یَثْبُتْ النَّسْخُ عِنْدَہٗ؟ فَلَئِنْ کَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ فَلَقَدْ صَارَ مُتَّہَمًا فِیْ رَأْیِہِ وَاِذَا کَانَ مُتَّہَمًا فِیْ رَأْیِہِ کَانَ مُتَّہَمًا فِیْ رِوَایَتِہٖ وَاِذَا ثَبَتَتْ لَہُ الْعَدَالَۃُ فِیْ رِوَایَتِہِ ثَبَتَ لَہُ الْعَدَالَۃُ فِیْ تَرْکِ خِلَافِہَا وَاِنْ وَہَبَ سُقُوْطَ أَحَدِ الْأَمْرَیْنِ وَہَبَ سُقُوْطَ الْآخَرِ .وَالْمُحْتَجُّ عَلَیْنَا بِحَدِیْثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ ہٰذَا یَقُوْلُ مَنْ رَوَیْ حَدِیْثًا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَہُوَ أَعْلَمُ بِتَأْوِیْلِہٖ .فَکَانَ یَجِیْئُ عَلٰی أَصْلِہِ وَیَلْزَمُہٗ فِی قَوْلِہٖ أَنْ یَقُوْلَ لِمَ قَالَ الشَّعْبِیُّ مَا ذَکَرْنَا مِمَّا یُخَالِفُ مَا رُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ ذٰلِکَ دَلِیْلًا عَلٰی نَسْخِہٖ۔
٥٧٥٧: اسماعیل بن ابی خالد نے شعبی (رح) سے نقل کیا مرہونہ شئی سے ذرہ بھر نفع نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یہ امام شعبی (رح) ہیں جنہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے وہ روایت نقل کی ہے۔ اگر نسخ نہ مانا جائے تو تسلیم کرنا ہوگا کہ ابوہریرہ (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت کی پھر وہ شعبی خود اس کے خلاف فتویٰ دے رہے ہیں (حالانکہ پہلی روایت کے راوی خود شعبی ہیں) اگر یہ بات اسی طرح ہوتی تو رائے کے سلسلہ میں وہ متہم ہوئے اور جو رائے میں متہم ہے تو روایت میں بدرجہ اولیٰ متہم ہوا۔ حالانکہ روایت میں ان کی عدالت ثابت شدہ ہے تو روایت کی مخالفت کے چھوڑنے میں بھی عدالت ثابت ہے۔ اگر ان دونوں میں سے ایک کو ساقط کرنا لازم ہے تو دوسری کا ساقط کرنا بھی لازم ہے۔ حالانکہ ہمارے خلاف اس روایت سے استدلال کرنے والا یہ تسلیم کرتا ہے کہ جو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کرتا ہے وہ اس روایت کی تاویل کو خوب جانتا ہے۔ پس اسے اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہوگا اور اس پر لازم ہوجائے گا کہ وہ وہی بات کہے جو امام شعبی (رح) نے کہی جس کو ہم نے ذکر کیا جو کہ روایت ابوہریرہ (رض) کے خلاف ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ روایت منسوخ ہے۔ (ورنہ شعبی (رح) جو اس کے مرکزی راوی ہیں یہ اس کے خلاف نہ کہتے)