۵۷۶۳: مَا قَدْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّیْمِیُّ قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ قَالَ : ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ أَنَّ رَجُلًا ارْتَہَنَ فَرَسًا فَمَاتَ الْفَرَسُ فِیْ یَدِ الْمُرْتَہِنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَہَبَ حَقُّک .فَدَلَّ ہٰذَا مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی بُطْلَانِ الدَّیْنِ بِضَیَاعِ الرَّہْنِ .فَاِنْ قَالَ : ہٰذَا مُنْقَطِعٌ قِیْلَ لَہٗ : وَالَّذِیْ تَأَوَّلْتُہٗ أَیْضًا مُنْقَطِعٌ فَاِنْ کَانَ الْمُنْقَطِعُ حُجَّۃً لَک عَلَیْنَا فَالْمُنْقَطِعُ أَیْضًا حُجَّۃٌ لَنَا عَلَیْکَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ جِہَۃٍ أُخْرَی مَا یُوَافِقُ ذٰلِکَ أَیْضًا .
٥٧٦٣: مصعب بن ثابت نے عطاء بن ابی رباح (رح) سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے گھوڑا بطور رہن لیا وہ مرتہن کے پاس مرگیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تیرا حق (قرض) جاتا رہا۔ اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان سے دلالت مل گئی کہ رہن کے ضائع ہونے سے قرض باطل ہوجاتا ہے۔ اگر معترض کہے کہ یہ منقطع روایت ہے۔ (استدلال کیسے درست ہے) ان کو جواب دیا جائے گا کہ آپ نے جو تاویل کی وہ بھی منقطع ہے اگر تمہاری منقطع ہمارے خلاف حجت ہے تو یہ منقطع ہماری طرف سے تمہارے خلاف حجت ہے۔ ایک دوسری سند سے یہی روایت مروی ہے۔
حاصل روایت : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان سے دلالت مل گئی رہن کے ضائع ہونے سے قرض باطل ہوجاتا ہے۔
ایک اعتراض :
یہ منقطع روایت ہے۔ (استدلال کیسے درست ہے) جواب : آپ نے جو تاویل کی وہ بھی منقطع ہے اگر تمہاری منقطع ہمارے خلاف حجت ہے تو یہ منقطع ہماری طرف سے تمہارے خلاف حجت ہے۔
ایک دوسری سند سے یہی روایت : ایک دوسرے سند سے یہی روایت مروی ہے۔