۵۷۶۶: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ بْنُ نَاصِحٍ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ عَنْ اِسْرَائِیْلَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی التَّغْلِبِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ اِذَا رَہَنَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ رَہْنًا فَقَالَ لَہُ الْمُعْطَی : لَا أَقْبَلُہُ اِلَّا بِأَکْثَرَ مِمَّا أُعْطِیْکَ فَضَاعَ رَدَّ عَلَیْہِ الْفَضْلَ وَاِنْ رَہَنَہُ وَہُوَ أَکْثَرُ مِمَّا أَعْطَی بِطِیْبِ نَفْسٍ مِنَ الرَّاہِنِ فَضَاعَ فَہُوَ بِمَا فِیْہِ .
٥٧٦٦: محمد بن حنفیہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی کے پاس رہن رکھے اور قرض دینے والا اس کو یہ کہے کہ میں اس کو قبول نہیں کرتا مگر اس سے زیادہ کے ساتھ جو میں نے تم کو دیا۔ پھر وہ ضائع ہوجائے تو زائد رقم لوٹائے اور اگر وہ رہن رکھے اور مرہونہ شئی اس قرض سے زائد مالیت کی ہو اور راہن اپنی مرضی سے دے پھر وہ ضائع ہوجائے تو وہ قرض کے بدلے میں ہی ہوگی۔