۵۷۶۸: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ قَالَ : ثَنَا حُمَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ وَخِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ عَلِیًّا قَالَ فِی الرَّہْنِ یَتَرَادَّانِ الزِّیَادَۃَ وَالنُّقْصَانَ جَمِیْعًا فَاِنْ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ بَرِئَ .فَہٰذَا عُمَرُ وَعَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَدْ أَجْمَعَا أَنَّ الرَّہْنَ الَّذِی قِیْمَتُہُ مِقْدَارُ الدَّیْنِ یَضِیعُ بِالدَّیْنِ وَاِنَّمَا اخْتِلَافُہُمَا فِیْمَا زَادَ مِنْ قِیْمَۃِ الرَّہْنِ عَلَی مِقْدَارِ الدَّیْنِ .فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ : ہُوَ أَمَانَۃٌ .وَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ مَا قَدْ رَوَیْنَا عَنْہٗ فِیْ حَدِیْثِ نَصْرِ بْنِ مَرْزُوْقٍ وَأَحْمَدَ بْنِ دَاوٗدَ .وَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَنِ الْحَسَنِ وَشُرَیْحٍ مِنْ ذٰلِکَ
٥٧٦٨: حسن اور فلاس بن عمرو دونوں نے حضرت علی (رض) سے نقل کیا ہے کہ رہن کے متعلق فرمایا کہ راہن و مرتہن اضافہ اور نقصان کو ایک دوسرے کی طرف واپس کریں اور اگر ہلاک ہوجائے تو مقروض بری الذمہ ہوجائے گا۔ یہ حضرت عمر ‘ حضرت علی (رض) ہیں جن کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس مرہونہ شئی کی قیمت قرض کے برابر ہو وہ تو قرض کے بدلے ہلاک ہوگی جب رہن کی مقدار قرض کی مقدار سے زیادہ ہو تو اس میں حضرت عمر (رض) کا قول یہ ہے کہ وہ امانت ہے اور حضرت علی (رض) فرماتے ہیں وہ ہلاکت کی صورت میں اپنے عوض کے مقابلہ میں ہے جیسا کہ نصر بن مرزوق اور احمد بن داؤد کی روایت میں ہے۔
اقوال کبار تابعین (رض) : حضرت حسن و شریح (رح) کے اقوال :