۵۷۷۱: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ زِیَادٍ عَنْ عِیْسَی بْنِ جَابَانَ قَالَ : رَہَنْتُ حُلِیًّا وَکَانَ أَکْثَرَ مِمَّا فِیْہِ فَضَاعَ فَاخْتَصَمْنَا اِلَی شُرَیْحٍ فَقَالَ الرَّہْنُ بِمَا فِیْہِ .فَہٰذَا الْحَسَنُ وَشُرَیْحٌ قَدْ رَأَیَا الرَّہْنَ یَبْطُلُ ذَہَابُہٗ بِالدَّیْنِ وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ اِبْرَاھِیْمَ النَّخَعِیِّ .
٥٧٧١: یزید بن ابی زیاد نے عیسیٰ بن جابان سے روایت کی ہے کہ میں نے کچھ زیور رہن رکھا اور وہ اس چیز کے مقابلے میں زیادہ تھا جس کے لیے رہن رکھا گیا تھا پھر وہ ضائع ہوگیا تو وہ دونوں اپنا مقدمہ حضرت شریح (رح) کی خدمت میں لائے تو انھوں نے فرمایا رہن اس چیز کے بدلے میں ہے جس کے عوض میں رہن رکھا گیا۔ یہ حضرت حسن و شریح رحمہم اللہ جن کا مذہب یہی ہے کہ رہن کی ہلاکت قرض کو باطل کردیتی ہے ابراہیم نخعی (رح) کا بھی اسی طرح قول ہے۔