۵۷۷۸: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا وَأَمْرُ نَبِیِّ اللّٰہِ أَنْفَعُ لَنَا قَالَ مَنْ کَانَتْ لَہٗ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا أَوْ لِیُزْرِعْہَا .
٥٧٧٨: مجاہد نے رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمارے لیے (بظاہر) فائدہ مند تھی اور اللہ تعالیٰ کے نبی نے ہمیں اس سے زیادہ فائدہ مند کا حکم فرمایا جس کی اپنی زمین ہو وہ اس میں خود کاشت کرے یا دوسرے سے کاشت کروائے۔
تخریج : بخاری فی الحرث باب ١٨‘ والہبہ باب ٣٥‘ مسلم فی البیوع ٨٧؍٨٨‘ ٨٩؍٩١‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣١‘ ترمذی فی الاحکام باب ٤٢‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٧؍٨‘ مسند احمد ١؍٢٨٦‘ ٣‘ ٣٠٢؍٣٠٤‘ ٤‘ ١٤١؍١٤٣۔