۵۷۸ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنْ ہِشَامٍ، فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ، غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَقُلْ : " وَلَمْ یَغْسِلْہُ " .وَإِتْبَاعُ الْمَائِ حُکْمُہٗ حُکْمُ الْغَسْلِ، أَلَا تَرٰی أَنَّ رَجُلًا لَوْ أَصَابَ ثَوْبَہٗ عَذِرَۃٌ، فَأَتْبَعَہَا الْمَائَ حَتّٰی ذَہَبَ بِہَا، أَنَّ ثَوْبَہٗ قَدْ طَہُرَ .وَقَدْ رَوٰی ھٰذَا الْحَدِیْثَ زَائِدَۃُ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ فَقَالَ فِیْہِ (فَدَعَا بِمَائٍ، فَنَضَحَہٗ عَلَیْہِ) .وَقَالَ مَالِکٌ، وَأَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، وَعَبْدَۃُ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ : (فَدَعَا بِمَائٍ، فَصَبَّہٗ عَلَیْہِ) .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ النَّضْحَ - عِنْدَہُمُ - الصَّبُّ .
٥٧٨: مالک نے ہشام سے بیان کیا اور ہشام نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی البتہ اس میں لم یغسلہ “ کا لفظ نہیں ہے اور پے در پے پانی بہانے کا حکم دھونے کا ہے کیا تم غور نہیں کرتے کہ اگر کسی آدمی کے کپڑے کو گندگی لگ جائے اور اس پر وہ پے در پے پانی ڈالے جس سے وہ گندگی دور ہوجائے تو اس کا کپڑا پاک ہوگیا۔ اس روایت کو زائدہ نے ہشام سے نقل کیا ہے اور اس کے الفاظ ((فدعا بماء فنضحہ علیہ)) ہیں اور مالک (رح) کی ہشام سے جو روایت ہے اس میں ((فصبہ علیہ)) کے الفاظ ہیں۔ اس سے یہ ثبوت مہیا ہوگیا کہ ان کے نزدیک نضح کو صبّ کے معنی میں لیا جاتا ہے۔
اس روایت کو زائدہ نے ہشام بن عمرو سے بھی نقل کیا اس میں یہ لفظ ہیں ” فدعا بماء فنضحہ علیہ “ اور مالک ‘ عبدہ ‘ ابو معاویہ عن ہشام بن عروہ میں یہ لفظ ہیں ” فدعا بماء فصبہ علیہ “
قابل غور حقیقت :
روایت عائشہ (رض) میں ” اتبعہ المائ “ کے الفاظ ہیں پے درپے پانی ڈالنے کا حکم غسل ہی کا ہے اگر کسی آدمی کے کپڑے کو گوبر یا پائخانہ لگ جائے تو اس پر مسلسل پانی بہانے سے گندگی دھل جائے گی اور کپڑا پاک ہوجائے گا اور ان روایات سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ نضح کا معنی صب کا آتا ہے۔