۵۷۸۶: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ یُوْنُسَ قَالَ : ثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو النَّجَاشِیِّ مَوْلٰی رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : قُلْت لِرَافِعٍ : اِنَّ لِی أَرْضًا أُکْرِیہَا فَنَہَانِیْ رَافِعٌ وَأَرَاہُ قَالَ لِی : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ : اِذَا کَانَتْ لِأَحَدِکُمْ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا أَوْ لِیُزْرِعْہَا أَخَاہُ فَاِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلْیَدَعْہَا وَلَا یُکْرِیہَا بِشَیْئٍ .فَقُلْتُ : أَرَأَیْتَ اِنْ تَرَکْتُہَا فَلَمْ أَزْرَعْہَا وَلَمْ أُکْرِہَا بِشَیْئٍ فَزَرَعَہَا قَوْمٌ فَوَہَبُوْا لِیْ مِنْ نَبَاتِہَا شَیْئًا آخُذُہٗ؟ قَالَ : لَا .
٥٧٨٦: ابوالنجاشی مولیٰ رافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع (رض) سے کہا میری زمین ہے میں اسے کرایہ پر دیتا ہوں۔ پس رافع نے مجھے اس سے منع فرمایا اور میرا خیال ہے کہ مجھے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا اور فرمایا جب تم میں سے کسی کی زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی سے کاشت کروائے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے چھوڑ دے اور کسی چیز کے بدلے اس کو کرایہ پر نہ دے۔
میں نے کہا کیا خیال ہے کہ اگر میں اس کو چھوڑ دوں اور اس میں زراعت نہ کروں اور اس کو کسی چیز کے بدلے کرایہ پر بھی نہ دوں پھر اگر اس کو کچھ لوگ کاشت کریں اور اس کی کھیتی میں سے کوئی چیز اگر مجھے ہبہ کریں تو کیا میں اسے لے لوں تو انھوں نے کہا مت لو۔
تخریج : مسلم فی البیوع ٩٢‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ مسند احمد ٣؍٣٦٣۔