hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5820

.

الطحاوي

5820
Al Tahawi
۵۸۱۹: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا حُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ الْأَصْبَہَانِیُّ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ حَدَّثَنِیْ سَعْدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُمَرُ بْنُ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔قَالَ وَالْمُحَاقَلَۃُ : الشِّرْکُ فِی الزَّرْعِ وَالْمُزَابَنَۃُ : التَّمْرُ بِالتَّمْرِ عَلَی رُئُوْسِ النَّخْلِ .قَالُوْا : فَقَدْ نَہَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ وَہِیَ کِرَائُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَنَہَی أَیْضًا عَنِ الْمُخَابَرَۃِ وَہِیَ أَیْضًا کَذٰلِکَ .قِیْلَ لَہُمْ : أَمَّا مَا ذَکَرْتُمْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَہْیِہِ عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ فَقَدْ صَدَقْتُمْ وَنَحْنُ نُوَافِقُکُمْ عَلٰی صِحَّۃِ مَجِیْئِ ذٰلِکَ .وَأَمَّا تَأْوِیْلُکُمْ اِیَّاہُ عَلٰی أَنَّہٗ الْمُزَارَعَۃُ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَہٰذَا تَأْوِیْلٌ مِنْکُمْ وَلَیْسَ عِنْدَکُمْ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ یَدُلُّ عَلٰی أَنَّ تَأْوِیْلَہٗ کَمَا تَأَوَّلْتُمْ .وَقَدْ یُحْتَمَلُ عِنْدَنَا مَا ذَکَرْتُمْ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ مُخَالِفُکُمْ أَنَّہٗ بَیْعُ الْحِنْطَۃِ کَیْلًا بِحِنْطَۃِ ہٰذَا الْحَقْلِ الَّذِی لَا یَدْرِی مَا کَیْلُہُ .فَذٰلِکَ عِنْدَنَا وَعِنْدَکُمْ فَاسِدٌ وَہٰذَا أَشْبَہٗ بِذٰلِکَ لِأَنَّہٗ مَقْرُوْنٌ بِالْمُزَابَنَۃِ وَالْمُزَابَنَۃُ ہِیَ بَیْعُ التَّمْرِ الْمَکِیلِ بِمَا فِیْ رُئُوْسِ النَّخْلِ مِنْ التَّمْرِ .فَہٰذَا الْحَدِیْثُ یَحْتَمِلُ مَا تَأَوَّلَہُ الْفَرِیْقَانِ جَمِیْعًا عَلَیْہِ وَلَا حُجَّۃَ فِیْہِ لِأَحَدِ الْفَرِیْقَیْنِ عَلَی الْفَرِیْقِ الْآخَرِ .وَقَدْ جَائَ تْ آثَارٌ غَیْرُ ہٰذِہِ الْآثَارِ فِیْہَا اِبَاحَۃُ الْمُزَارَعَۃِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ .
٥٨١٩: ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے اور کہا کہ محاقلہ کھیتی میں شراکت ‘ مزابنہ تر کھجور درخت پر ہو اس کی بیع خشک کھجور سے۔ انھوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محاقلہ سے منع فرمایا اور زمین کو ثلث یا ربع پر کرایہ پر لینا ہے اور مخابرہ سے بھی منع کیا اور وہ بھی یہی ہے۔ آپ نے جس قدر روایات محاقلہ وغیرہ سے ممانعت کی ذکر کی ہیں ان کی درستی میں شبہ نہیں۔ ہم بھی اس میں آپ کے موافق ہیں۔ البتہ ہمیں تو آپ کی اس تاویل سے اختلاف ہے جو آپ نے ان بیوع کی کی ہے کہ اس سے مراد مزارعت ہے جو ثلث یا ربع وغیرہ کے بدلے کی جائے یہ آپ کی تاویل ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے نہیں اور آپ کے پاس کوئی دلیل بھی ایسی نہیں جو یہ ثابت کر دے۔ ہمارے ہاں جہاں تمہاری تاویل کا ان روایات میں احتمال ہے۔ وہاں تمہارے مخالفین کی تاویل یہ ہے کہ اس سے مراد گندم کو کیل کر کے اس کھڑی فصل کے بدلے فروخت کیا جائے جس کی پیمائش معلوم نہیں۔ یہ اس سے مراد ہے اور اگر یہ تاویل مان لی جائے تو اس کا فاسد ہونا ہمارے اور تمہارے ہاں مسلم ہے اور یہ تاویل اس کے ساتھ خوب مشابہت رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ مزابنہ سے ملتی جلتی ہے مزابنہ کی حقیقت یہ ہے کہ کھجور کے درخت پر کھجوروں کے بدلے کیل کر کے کھجور کی بیع کرنا۔ یہ روایات تو فریقین کے مؤقف کا احتمال رکھتی ہیں اس میں فریق ثانی کے خلاف کوئی دلیل نہیں۔ پہلے بہت سے آثار ان کے علاوہ ثلث و ربع پر مزارعت کے جواز کو ثابت کرتے ہیں۔
مزارعت کی اباحت پر آمدہ روایات :
بہت سے آثار ان کے علاوہ ثلث و ربع پر مزارعت کے جواز کو ثابت کرتے ہیں۔