hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 583

.

الطحاوي

583
Al Tahawi
۵۸۳ : حَدَّثَنَا رَبِیْعُ ڑالْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ قَالَ : ثَنَا قَیْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ حَنَشِ ڑالصَّنْعَانِیِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : أَنَّ (ابْنَ مَسْعُوْدٍ خَرَجَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ الْجِنِّ، فَسَأَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَعَک یَا ابْنَ مَسْعُوْدٍ مَائٌ ؟ قَالَ : مَعِیْ نَبِیْذٌ فِیْ إدَاوَتِیْ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُصْبُبْ عَلَیَّ فَتَوَضَّأَ بِہٖ، وَقَالَ : شَرَابٌ وَطَہُوْرٌ) .
٥٨٣: حنش صنعانی حضرت ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لیلۃ الجن میں گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے سوال کیا کیا ابن مسعود تمہارے پاس پانی موجود ہے ؟ انھوں نے عرض کیا میرے مشکیزہ میں نبیذ موجود ہے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے ہاتھ پر انڈیلو چنانچہ اس سے آپ نے وضو کیا اور آپ نے فرمایا وہ مشروب اور آلہ وضو ہے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ٣٧‘ نمبر ٣٨٥‘ دارقطنی ١؍٧٦۔
خلاصہ الزام : نبیذ : کھجور کو پانی میں بھگونے سے جو پانی بنے گا وہ نبیذ کہلاتا ہے نبیذ میں اگر مٹھاس پیدا ہوگئی مگر نشہ پیدا نہ ہوا تو اس کے متعلق وضو میں اختلاف ہے جس میں نشہ آجائے اس سے بالاتفاق ناجائز اور جس میں مٹھاس نہ ہو اس سے بالاتفاق جائز ہے۔
مذاہب ائمہ فریق اوّل :
امام ابوحنیفہ (رح) اور سعید بن المسیب (رح) کے ہاں سفر میں اس سے وضو جائز ہے تیمم درست نہیں۔
فریق دوم : امام ابو یوسف (رح) شافعی (رح) مالک (رح) ابن حنبل خود طحاوی (رح) کے ہاں جائز نہیں بلکہ تیمم ضروری ہے۔