۵۸۴۸: وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ ثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِیْرُ قَالَ : وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیْلِ أَنَّہٗ قَدْ أَخْبَرَہُمْ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیْزِ رَحِمَہُ اللّٰہُ قَدْ کَتَبَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ فِیْمَنْ بَنَی فِیْ دَارِ قَوْمٍ وَفِیْمَنْ غَرَسَ فِیْ أَرْضِ قَوْمٍ بِمِثْلِ ذٰلِکَ أَیْضًا سَوَائً .أَفَلَا تَرَی أَنَّہُمْ جَمِیْعًا قَدْ جَعَلُوا النَّقْضَ لِصَاحِبِ الْبِنَائِ وَلَمْ یَجْعَلُوْھُ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ فَالزَّرْعُ فِی النَّظَرِ أَیْضًا کَذٰلِکَ .وَالَّذِی قَدْ حَمَلَنَا عَلَیْہِ مَعْنَیْ حَدِیْثِ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ الَّذِی قَدْ رَوَیْنَاہُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ أَوْلَی مِمَّا قَدْ حَمَلَہٗ عَلَیْہِ مَنْ قَدْ خَالَفَنَا لِیَتَّفِقَ ذٰلِکَ وَمَا رَوَاہُ الرَّجُلُ الْبَیَاضِیُّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا وَلَا یَتَضَادَّانِ فِیْ ذٰلِکَ .وَقَدْ رَوَیْنَا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ فِی بَابِ الْمُزَارَعَۃِ الَّذِی قَبْلَ ہٰذَا الْبَابِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ مَرَّ بِرَجُلٍ یَزْرَعُ لَہٗ فَسَأَلَہٗ عَنْہُ فَقَالَ ہُوَ زَرْعِی وَالْأَرْضُ لِآلِ فُلَانٍ وَالْبَذْرُ مِنْ قِبَلِیْ بِنِصْفِ مَا یَخْرُجُ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَیْتُ خُذْ نَفَقَتَک .فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ عَلَی مَعْنَی خُذْ نَفَقَتَک مِنْ رَبِّ الْأَرْضِ لِأَنَّ رَبَّ الْأَرْضِ لَمْ یَأْمُرْہُ بِالْاِنْفَاقِ لِنَفْسِہٖ۔ وَلٰـکِنْ مَعْنٰی ذٰلِکَ خُذْ نَفَقَتَک مِمَّا قَدْ خَرَجَ مِنْ الزَّرْعِ مِنْ ہٰذَا الزَّرْعِ وَتَصَدَّقْ بِمَا بَقِیَ .فَمَا قَدْ رَوَیْنَاہٗ عَنْ رَافِعٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْمَنْ زَرَعَ فِیْ أَرْضِ غَیْرِہِ وَقَدْ جَعَلَ لَہٗ نَفَقَتَہُ کَذٰلِکَ أَیْضًا .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٥٨٤٨: حمیدالطویل نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے نقل کیا کہ انھوں نے اسی طرح کا فیصلہ اس آدمی کے متعلق لکھا جس نے دوسروں کی زمین پر مکان تعمیر کرلیا تھا یا دوسروں کی زمین میں درخت لگایا تھا۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ ان حضرات نے مکان بنانے والے کو اس کے توڑنے کا حکم دیا اور اسے مالک زمین کے لیے بھی قرار نہیں دیا تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ کھیتی کا بھی یہی حکم ہو۔ حضرت رافع کی روایت کی جو تاویل ہم نے کی ہے وہ فریق اول کی تاویل سے بہتر ہے تاکہ یہ حدیث اور بیاضی مرد والی روایات کا تضاد نہ رہے۔ ہم نے باب المزارعت میں روایت رافع (رض) ذکر کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے لیے کاشت کررہا تھا آپ نے پوچھا تو اس نے کہا یہ میری کھیتی ہے زمین فلاں کی ہے اور بیج بھی میرا ہے جو فصل نکلے گی وہ میرے اور مالک کے مابین نصف ہوگی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے سودی کاروبار کیا۔ اپنا خرچہ وصول کرو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنا نفقہ زمین کے مالک سے وصول کرو کیونکہ زمین کے مالک نے اس کو حکم نہ دیا تھا کہ وہ اپنے لیے خرچ کرے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنا خرچہ اس کھیتی کی پیداوار سے وصول کرو اور باقی صدقہ کر دو ۔ تو حضرت رافع (رض) کی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس روایت کا بھی یہی مطلب ہے من زرع فی ارض غیرہ الحدیث اس میں آپ نے اس کے لیے نفقہ کا جو حکم دیا اس کا بھی یہی مطلب ہے اپنا خرچہ لے کر بقیہ صدقہ کر دو ۔ اس باب میں امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول یہی ہے۔