۵۸۵۶: حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ الْمَاجِشُوْنِ قَالَ : ثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالُوْا : فَنَفَیْ ہٰذَا الْحَدِیْثُ أَنْ تَکُوْنَ الشُّفْعَۃُ تَجِبُ اِذَا حُدَّتِ الْحُدُوْدُ .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ أَنَّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ - عَلٰی أَصْلِ الْمُحْتَجِّ بِہٖ عَلَیْنَا - لَا یَجِبُ بِہٖ حُجَّۃٌ لِأَنَّ الْأَثْبَاتَ مِنْ أَصْحَابِ مَالِکٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اِنَّمَا رَوَوْہُ عَنْ مَالِکٍ مُنْقَطِعًا لَمْ یَرْفَعُوْھُ اِلٰی أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٥٨٥٦: عبدالملک بن عبدالعزیز ماجشون نے مالک سے انھوں نے پھر اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ حد بندی کیے جانے تک شفعہ ہے جب حد بندی کردی گئی تو شفعہ کا موقع ختم ہوگیا۔ اس روایت سے استدلال تب درست ہوتا جب کہ یہ روایت ثابت ہوتی امام مالک (رح) نے اس کو منقطع نقل کیا ہے حضرت ابوہریرہ (رض) تک اتصال ثابت نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو۔
طریق استدلال : حد بندی کردینے جانے تک شفعہ ہے جب حد بندی کردی گئی تو شفعہ کا موقعہ ختم۔
جواب : اس روایت سے استدلال تب درست ہوتا جب کہ یہ روایت ثابت ہوتی امام مالک (رح) نے اس کو منقطع نقل کیا ہے حضرت ابوہریرہ (رض) تک اتصال ثابت نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو۔